Maah e Rajab aur Rasam e Koondha






بواسطہ: ماہنامہ دارالعلوم ديوبند
ماہنامہ دارالعلوم ، شماره 07 ، جلد: 93 رجب 1430 ھ مطابق جولائى 2009ء

موضوعات: | رسوم وبدعات |

ماہ رجب اور رسمِ کونڈا
از: مولوی رئیس احمد عرشی کلیری

رجب ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے مگر بدقسمتی سے بعض لوگوں نے اس کی حرمت و فضیلت کو نظر انداز کرکے اس کے ساتھ کچھ ایسی رسمیں وابستہ کرلی ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں، انھیں رسموں میں سے ایک رسم ”رسم کونڈا“ بھی ہے جو اس مہینہ کی ۲۲/تاریخ کو منائی جاتی ہے۔
اس رسم کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی ابتداء کب اور کیوں ہوئی؟ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس کے پیچھے معاویہ دشمنی کی ایک پراسرار تاریخ ہے، اس کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
جاننا چاہیے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد فتنوں کا آغاز ہوگیا تھا، ایک طرف مدعیان نبوت کھڑے ہوگئے، دوسری جانب مانعین زکوٰة کا فتنہ سامنے آیا۔ تیسری طرف منافقین نے اپنے بال وپر پھیلانے شروع کردئیے اور چوتھی سمت یہود ونصاریٰ نے اپنی اسلام مخالف سرگرمیاں تیز کردیں غرض اسلام چاروں طرف سے فتنوں کے گھیرے میں آگیا، اور دشمنانِ اسلام طرح طرح سے اسلام کو مٹانے کے درپے ہوگئے۔
اسی دوران شیعہ فرقہ وجود میں آیا، جس کا موجد اور بانی عبداللہ ابن سبا یمنی تھا، جو یہودی مذہب کا پیروکار اور اسلام کا سخت ترین دشمن تھا اور اسلام کے معماروں صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے سخت عناد رکھتا تھا، اس نے نہایت پرفریب طریقے سے حب علی کے پردے میں بغض صحابہ کو بنیاد بناکر اس فرقے کی تاسیس اور منصوبہ سازی شروع کی۔
اس فرقے کے ظہور کی خبر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پہلے ہی دے چکے تھے اور امت کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:
سیاتی قومٌ لیسونہم ویستنقصونہم فلا تجلسوہم ولا تشاربوہم ولا تواکلوہم ولا تناکحوہم. (مظاہرحق شرح اُردو مشکوٰة المصابیح)
ترجمہ: عنقریب کچھ لوگ پیداہوں گے جو میرے صحابہ کو برا کہیں گے اور ان میں نقص نکالیں گے پس تم ان لوگوں کے ساتھ، میل ملاپ اختیار کرنا، نہ ان کے ساتھ کھانا پینا، نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا۔ (شرح مشکوٰة ص ۲۸۳ جلد ۸ علامہ قطب الدین دہلوی)
اور دارقطنی میں خود حضرت علی رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے آپ رضى الله تعالى عنه کو مخاطب کرکے فرمایا:
عن علي عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال سیاتی من بعدی قوم یقال لہم الرفضة فان ادرکتہم فاقتلہم فانہم مشرکون فقال قلت یا رسول اللّٰہ ما العلامة فیہم قال یفرطونک بما لیس فیک ویطعنونک علی السلف. (دارقطنی)
عنقریب میرے بعد ایک گروہ پیداہوگا جس کو رافضی کہا جائے گا، پس اگر تم ان کو پاؤ تو ان کو قتل کرنا، کیوں کہ وہ مشرک ہوں گے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کی پہچان کیا ہے، آپ نے فرمایا وہ تمہیں ان چیزوں کے ذریعہ نہایت اونچا دکھائیں گے جو تم میں نہیں ہوں گی۔ اور صحابہ پر لعن طعن کریں گے۔ (مظاہرحق)
فرمان نبوی کے مطابق یہ لوگ حضرت عثمان رضى الله تعالى عنه کے زمانہٴ خلافت میں ظاہر ہوئے اور منظم سازشوں کے تحت خفیہ طریقے سے ترقی کرتے رہے اور رفتہ رفتہ اپنی جمعیت بڑھاتے رہے، حتیٰ کہ بہت جلد ایک تحریک کی شکل اختیار کرکے ملت اسلامیہ میں رخنہ اندازیاں شروع کردیں۔ خلیفہٴ وقت کو ان کی سرگرمیوں کا علم ہوا تو ان کی سرزنش کی اور ان کے سرغنہ ابن سبا کو مدینہ سے نکلوادیا، مدینہ سے نا اُمید ہوکر اس نے کوفہ، بصرہ، مصر وغیرہ کا رخ کیا اور دارالحکومت سے دور دراز جگہوں پر پہنچ کر اپنی سازشیں تیز کیں اور حکومت و اہل حکومت کے خلاف بغاوت جاری رکھی۔ خلیفہٴ وقت حضرت عثمان غنی رضى الله تعالى عنه پر طرح طرح کے الزامات لگائے ان کو معاذ اللہ غاصب وخائن بتلایا اور ان کے خلاف انتہائی پرفریب، منظم اور وسیع پروپیگنڈہ کرکے آپ رضى الله عنه کو شہید کردیا۔
حضرت عثمان کے بعد تاجِ خلافت حضرت علی رضى الله تعالى عنه کے سرپر رکھا گیا، مگر ان ہی شیعانِ علی کہلانے والے جھوٹے محبوں نے جنھیں نہ حضرت علی رضى الله تعالى عنه سے کوئی محبت تھی اور نہ ہی اسلام سے کوئی ہمدردی بلکہ ان کا مقصد خلافت اسلامیہ کی بیخ کنی کرنا تھا، انھوں نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه کی مخالفت بھی بدستور جاری رکھی اور شکلیں بدل بدل کر سازشوں کے جال بنتے رہے، بالآخر حضرت علی رضى الله تعالى عنه کے ایک فیصلے سے اختلاف کرکے ان کو بھی شہید کردیا۔
پھر چھ مہینے تک وہ حضرت حسن کے لیے دردِ سر بنے رہے اور ان کے ساتھ بھی یہی ناروا سلوک روا رکھا، آپ رضى الله عنه کے پہلو میں خنجرمارا، آپ کا اسباب لوٹا، آپ کے خیمہ میں آگ لگائی اور آپ رضى الله عنه کے قتل تک کی مذموم کوششیں کی جس کی شہادت، خود شیعہ کتابوں میں بھی موجود ہے۔ احتجاج طبرسی میں زید ابن وہب جہنی کی روایت ہے کہ حضرت حسن بن علی رضى الله عنه نے قسم کھاکر فرمایا:
فقال اری واللّٰہ معاویة خیرلی من ہولاء یزعمون انہم لی شیعة ابتغوا قتلی وانتہبوا ثقلی واخذوا مالی واللّٰہ لان اخذ من معاویة عہدا احقن بہ دمی وآمن بہ فی اہلی خیر من ان یقتلونی . (احتجاج طبرسی مطبوعہ ایران ص ۱۴۸)
ترجمہ: خدا کی قسم میں معاویہ کو اپنے لیے ان لوگوں سے زیادہ بہتر سمجھتا ہوں جو اپنے کو میرا شیعہ کہتے ہیں، انھوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا، میرا اسباب لوٹ لیا، اور میرا مال چھین لیا، اللہ کی قسم میں معاویہ سے کوئی معاہدہ کرلوں جس سے میری جان اور میرے متعلقین کی حفاظت ہوجائے یہ بہتر ہے اس سے کہ شیعہ مجھے قتل کردیں۔
اور ایک شیعہ روایت کے الفاظ ہیں:
”واُورا مضطر کردند تا آنکہ بامعاویہ صلح کرد“
ترجمہ: اور ان کو یہاں تک پریشان اورمجبورکیا کہ انھوں نے حضرت معاویہ سے صلح کرلی۔ (جلاء العیون علامہ باقر مجلسی)
الغرض شیعوں کی زیادتیوں سے پریشان ہوکر آپ رضى الله عنه خلافت سے دل برداشتہ ہوگئے اور باگ خلافت حضرت معاویہ کے سپرد کردی۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ انتہائی دانشمند مدبر، معاملہ فہم منتظم، رعیت شناس انسان تھے اور زمانہٴ نبوی سے ہی اپنی انتظامی صلاحیت، مدبرانہ لیاقت اور سیاسی بصیرت میں ممتاز تھے ان کی قائدانہ صلاحیت کو دیکھ کر حضرت عمررضى الله عنه نے انھیں کسرائے عرب کا لقب دیا تھا۔اور زمانہٴ فاروقی سے ہی شام کے عہدئہ گورنری پر فائز تھے اور بیس سال سے وہاں کی کامیاب قیادت کرتے چلے آرہے تھے۔
حضرت معاویہ جس وقت مسند نشین ہوئے اس وقت ملک کے سیاسی حالات بے حد ناسازگار تھے، طرح طرح کے فتنے جنم لے رہے تھے، فتنہٴ شیعیت کی جڑیں کافی مضبوط ہوگئی تھیں اور وہ طریقے بدل بدل کر اسلام میں رخنہ اندازیاں کررہے تھے، اگرچہ وہ خود داخلی انتشار کا شکار ہوکر کئی حصوں میں تقسیم ہوچکے تھے، مگر سب کا مطمح نظر اور نصب العین ایک تھا۔ اور سب کے سب ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اسلام دشمنی میں سرگرم تھے۔ ایسے حالات میں نئی حکومت کے لیے ضروری تھا کہ وہ سب سے پہلے بغاوت کے خاتمہ کے لیے کوئی مثبت اور ٹھوس قدم اٹھائے اور مفسدوں کی بیخ کنی میں سخت موقف اختیار کرے۔
حضرت معاویہ جیسے ہوش مند انسان سے کیسے ممکن تھا کہ وہ اس اقتضاء حکومت کو نظر انداز کردیتے اور فتنہ کے استیصال میں غفلت برتتے، چنانچہ برسرِ اقتدار آتے ہی انھوں نے فتنہ وبغاوت کے سدباب کو ضروری سمجھا اور شرپسند عناصر کی سرکوبی کی ملک گیر مہم چلائی اور باغیوں (شیعوں) کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنا اور سزائیں دینا شروع کردیا جس سے بہت سے شیعہ قتل ہوکر اپنے کیفرکردار کو پہنچے اور کچھ لوگوں نے سزا کے خوف یا موت کے ڈرسے روپوشی اختیار کی۔ اور کتمان مذہب (تقیہ) کرکے جان بچانے میں عافیت سمجھی۔
ایک شیعہ موٴرخ اس وقت کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
”شیعان علی کے مال ومتاع ضبط کرلیے گئے، وہ قتل کیے گئے اور اس قدر ظلم ان پر کیے گئے کہ کوئی اپنے کو شیعہ نہ کہہ سکتا تھا۔“ (تاریخ اسلام ص ۳۳، ج:۱، از ذاکر حسین جعفری شیعہ)
مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ بہت سے شیعہ قتل ہوکر ٹھکانے لگ گئے اورجو کچھ باقی رہے وہ بھی اس قدر دہشت زدہ اور خائف تھے کہ خود شیعہ کہلوانا چھوڑدیا تھا۔اور اپنے انجام بد کے ڈرسے خانہ نشین ہوگئے۔
یہ لوگ بظاہر خاموش ہوگئے، مگر درحقیقت ان کے سینوں میں بغض معاویہ کی آگ بدستور بھڑک رہی تھی۔ اور وہ ان کے خلاف سانپ کی طرح پیچ وبل کھارہے تھے اور ان کی حکومت سے گلوخلاصی اور چھٹکارے کے شدت سے منتظر تھے۔
   چنانچہ بیس سال انتہائی کامیاب حکومت کرنے کے بعد ۲۲/رجب ۶۰ھ کو ملت اسلامیہ کا یہ عظیم مدبر دنیا سے رخصت ہوگیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون.
حاسدین معاویہ کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیاہوسکتی تھی کہ ان کا جانی دشمن دنیا میں نہیں رہا، اس لیے انھوں نے وفات معاویہ کی خبر سن کر خوب خوشیاں منائیں اور اظہار مسرت کے طور پر میٹھی ٹکیاں (کونڈوں کی پوریاں) بنائیں اور ایک دوسرے کو کھلاکر اپنے جذبہٴ عناد کو تسکین دی، اور یہ ساری کاروائی سنیوں سے چھپ کر اور پوشیدہ طریقہ سے انجام دی گئی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کاروائی مخفی کیوں رکھی گئی اور انھوں نے وفات معاویہ پر اپنی خوشی کا اظہار کھلم کھلا کیوں نہیں کیا؟ مولانا عبدالعلی صاحب فاروقی اس کی وجہ لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
”کیوں کہ اس وقت اہل سنت وجماعت کا غلبہ تھا اور وہ صحابیٴ رسول کی توہین اور ان کی وفات پر اظہار مسرت کو برداشت نہیں کرسکتے تھے اس لیے رافضیوں نے چھپ چھپاکر اپنے اپنے گھروں میں ہی ٹکیاں بنالیں اور انہیں آپس میں تقسیم کرکے خفیہ طور پر اظہار مسرت کرکے دشمنیٴ اصحاب کا ثبوت فراہم کیا، بعد میں جب اس کا چرچا شروع ہوا تو نہایت ہی شاطرانہ انداز میں حضرت امام جعفر صادق کی طرف منسوب کردیا۔ (تعارف مذہب شیعہ ص ۱۵۸)
یہی وجہ ہے کہ اس رسم میں آج تک اس بات کی پابندی ہے کہ کونڈوں کی ٹکیاں کسی خفیہ جگہ پر پکائی جاتی ہیں۔ پھر بڑے اہتمام سے انھیں ڈھک کر رکھا جاتا ہے اور فاتحہ بھی کسی اندھیری جگہ پر دلائی جاتی ہے۔ اور پھر پردے کے ساتھ ہی انھیں کھایا کھلایا جاتا ہے۔
لیکن آگے چل کر جب اس سازش کی خبر سنیوں کو ہوئی اور اس راز سربستہ سے پردہ اٹھا تو شیعوں نے اپنا جرم چھپانے کے لیے اس کا رخ امام جعفر صادق کی فاتحہ کی جانب موڑ دیا۔
یہ ہے اس رسم کی اصل اور حقیقت۔ جس میں نادانستہ طورپر بعض ناخواندہ اہل سنت بھی شریک ہیں۔ اور اس رسم کو امرِ دین اور کارِ ثواب سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ نہیں جانتے کہ یہ ”حب علی کے پردے میں بغض معاویہ“ کا مصداق ہے۔
***
---------------------------------
ماہنامہ  دارالعلوم ، شماره 07 ، جلد: 93 رجب 1430 ھ مطابق جولائى  2009ء

No comments:

Post a Comment

السلام علیکم ورحمۃ اللہ:۔
اپنی بہترین رائے ضرور دیں۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء