Maah e Rajab aur Rasam e Koondha






بواسطہ: ماہنامہ دارالعلوم ديوبند
ماہنامہ دارالعلوم ، شماره 07 ، جلد: 93 رجب 1430 ھ مطابق جولائى 2009ء

موضوعات: | رسوم وبدعات |

ماہ رجب اور رسمِ کونڈا
از: مولوی رئیس احمد عرشی کلیری

رجب ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے مگر بدقسمتی سے بعض لوگوں نے اس کی حرمت و فضیلت کو نظر انداز کرکے اس کے ساتھ کچھ ایسی رسمیں وابستہ کرلی ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں، انھیں رسموں میں سے ایک رسم ”رسم کونڈا“ بھی ہے جو اس مہینہ کی ۲۲/تاریخ کو منائی جاتی ہے۔
اس رسم کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی ابتداء کب اور کیوں ہوئی؟ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس کے پیچھے معاویہ دشمنی کی ایک پراسرار تاریخ ہے، اس کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
جاننا چاہیے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد فتنوں کا آغاز ہوگیا تھا، ایک طرف مدعیان نبوت کھڑے ہوگئے، دوسری جانب مانعین زکوٰة کا فتنہ سامنے آیا۔ تیسری طرف منافقین نے اپنے بال وپر پھیلانے شروع کردئیے اور چوتھی سمت یہود ونصاریٰ نے اپنی اسلام مخالف سرگرمیاں تیز کردیں غرض اسلام چاروں طرف سے فتنوں کے گھیرے میں آگیا، اور دشمنانِ اسلام طرح طرح سے اسلام کو مٹانے کے درپے ہوگئے۔
اسی دوران شیعہ فرقہ وجود میں آیا، جس کا موجد اور بانی عبداللہ ابن سبا یمنی تھا، جو یہودی مذہب کا پیروکار اور اسلام کا سخت ترین دشمن تھا اور اسلام کے معماروں صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم سے سخت عناد رکھتا تھا، اس نے نہایت پرفریب طریقے سے حب علی کے پردے میں بغض صحابہ کو بنیاد بناکر اس فرقے کی تاسیس اور منصوبہ سازی شروع کی۔
اس فرقے کے ظہور کی خبر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پہلے ہی دے چکے تھے اور امت کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:
سیاتی قومٌ لیسونہم ویستنقصونہم فلا تجلسوہم ولا تشاربوہم ولا تواکلوہم ولا تناکحوہم. (مظاہرحق شرح اُردو مشکوٰة المصابیح)
ترجمہ: عنقریب کچھ لوگ پیداہوں گے جو میرے صحابہ کو برا کہیں گے اور ان میں نقص نکالیں گے پس تم ان لوگوں کے ساتھ، میل ملاپ اختیار کرنا، نہ ان کے ساتھ کھانا پینا، نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا۔ (شرح مشکوٰة ص ۲۸۳ جلد ۸ علامہ قطب الدین دہلوی)
اور دارقطنی میں خود حضرت علی رضى الله تعالى عنه سے روایت ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے آپ رضى الله تعالى عنه کو مخاطب کرکے فرمایا:
عن علي عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال سیاتی من بعدی قوم یقال لہم الرفضة فان ادرکتہم فاقتلہم فانہم مشرکون فقال قلت یا رسول اللّٰہ ما العلامة فیہم قال یفرطونک بما لیس فیک ویطعنونک علی السلف. (دارقطنی)
عنقریب میرے بعد ایک گروہ پیداہوگا جس کو رافضی کہا جائے گا، پس اگر تم ان کو پاؤ تو ان کو قتل کرنا، کیوں کہ وہ مشرک ہوں گے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کی پہچان کیا ہے، آپ نے فرمایا وہ تمہیں ان چیزوں کے ذریعہ نہایت اونچا دکھائیں گے جو تم میں نہیں ہوں گی۔ اور صحابہ پر لعن طعن کریں گے۔ (مظاہرحق)
فرمان نبوی کے مطابق یہ لوگ حضرت عثمان رضى الله تعالى عنه کے زمانہٴ خلافت میں ظاہر ہوئے اور منظم سازشوں کے تحت خفیہ طریقے سے ترقی کرتے رہے اور رفتہ رفتہ اپنی جمعیت بڑھاتے رہے، حتیٰ کہ بہت جلد ایک تحریک کی شکل اختیار کرکے ملت اسلامیہ میں رخنہ اندازیاں شروع کردیں۔ خلیفہٴ وقت کو ان کی سرگرمیوں کا علم ہوا تو ان کی سرزنش کی اور ان کے سرغنہ ابن سبا کو مدینہ سے نکلوادیا، مدینہ سے نا اُمید ہوکر اس نے کوفہ، بصرہ، مصر وغیرہ کا رخ کیا اور دارالحکومت سے دور دراز جگہوں پر پہنچ کر اپنی سازشیں تیز کیں اور حکومت و اہل حکومت کے خلاف بغاوت جاری رکھی۔ خلیفہٴ وقت حضرت عثمان غنی رضى الله تعالى عنه پر طرح طرح کے الزامات لگائے ان کو معاذ اللہ غاصب وخائن بتلایا اور ان کے خلاف انتہائی پرفریب، منظم اور وسیع پروپیگنڈہ کرکے آپ رضى الله عنه کو شہید کردیا۔
حضرت عثمان کے بعد تاجِ خلافت حضرت علی رضى الله تعالى عنه کے سرپر رکھا گیا، مگر ان ہی شیعانِ علی کہلانے والے جھوٹے محبوں نے جنھیں نہ حضرت علی رضى الله تعالى عنه سے کوئی محبت تھی اور نہ ہی اسلام سے کوئی ہمدردی بلکہ ان کا مقصد خلافت اسلامیہ کی بیخ کنی کرنا تھا، انھوں نے حضرت علی رضى الله تعالى عنه کی مخالفت بھی بدستور جاری رکھی اور شکلیں بدل بدل کر سازشوں کے جال بنتے رہے، بالآخر حضرت علی رضى الله تعالى عنه کے ایک فیصلے سے اختلاف کرکے ان کو بھی شہید کردیا۔
پھر چھ مہینے تک وہ حضرت حسن کے لیے دردِ سر بنے رہے اور ان کے ساتھ بھی یہی ناروا سلوک روا رکھا، آپ رضى الله عنه کے پہلو میں خنجرمارا، آپ کا اسباب لوٹا، آپ کے خیمہ میں آگ لگائی اور آپ رضى الله عنه کے قتل تک کی مذموم کوششیں کی جس کی شہادت، خود شیعہ کتابوں میں بھی موجود ہے۔ احتجاج طبرسی میں زید ابن وہب جہنی کی روایت ہے کہ حضرت حسن بن علی رضى الله عنه نے قسم کھاکر فرمایا:
فقال اری واللّٰہ معاویة خیرلی من ہولاء یزعمون انہم لی شیعة ابتغوا قتلی وانتہبوا ثقلی واخذوا مالی واللّٰہ لان اخذ من معاویة عہدا احقن بہ دمی وآمن بہ فی اہلی خیر من ان یقتلونی . (احتجاج طبرسی مطبوعہ ایران ص ۱۴۸)
ترجمہ: خدا کی قسم میں معاویہ کو اپنے لیے ان لوگوں سے زیادہ بہتر سمجھتا ہوں جو اپنے کو میرا شیعہ کہتے ہیں، انھوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا، میرا اسباب لوٹ لیا، اور میرا مال چھین لیا، اللہ کی قسم میں معاویہ سے کوئی معاہدہ کرلوں جس سے میری جان اور میرے متعلقین کی حفاظت ہوجائے یہ بہتر ہے اس سے کہ شیعہ مجھے قتل کردیں۔
اور ایک شیعہ روایت کے الفاظ ہیں:
”واُورا مضطر کردند تا آنکہ بامعاویہ صلح کرد“
ترجمہ: اور ان کو یہاں تک پریشان اورمجبورکیا کہ انھوں نے حضرت معاویہ سے صلح کرلی۔ (جلاء العیون علامہ باقر مجلسی)
الغرض شیعوں کی زیادتیوں سے پریشان ہوکر آپ رضى الله عنه خلافت سے دل برداشتہ ہوگئے اور باگ خلافت حضرت معاویہ کے سپرد کردی۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ انتہائی دانشمند مدبر، معاملہ فہم منتظم، رعیت شناس انسان تھے اور زمانہٴ نبوی سے ہی اپنی انتظامی صلاحیت، مدبرانہ لیاقت اور سیاسی بصیرت میں ممتاز تھے ان کی قائدانہ صلاحیت کو دیکھ کر حضرت عمررضى الله عنه نے انھیں کسرائے عرب کا لقب دیا تھا۔اور زمانہٴ فاروقی سے ہی شام کے عہدئہ گورنری پر فائز تھے اور بیس سال سے وہاں کی کامیاب قیادت کرتے چلے آرہے تھے۔
حضرت معاویہ جس وقت مسند نشین ہوئے اس وقت ملک کے سیاسی حالات بے حد ناسازگار تھے، طرح طرح کے فتنے جنم لے رہے تھے، فتنہٴ شیعیت کی جڑیں کافی مضبوط ہوگئی تھیں اور وہ طریقے بدل بدل کر اسلام میں رخنہ اندازیاں کررہے تھے، اگرچہ وہ خود داخلی انتشار کا شکار ہوکر کئی حصوں میں تقسیم ہوچکے تھے، مگر سب کا مطمح نظر اور نصب العین ایک تھا۔ اور سب کے سب ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اسلام دشمنی میں سرگرم تھے۔ ایسے حالات میں نئی حکومت کے لیے ضروری تھا کہ وہ سب سے پہلے بغاوت کے خاتمہ کے لیے کوئی مثبت اور ٹھوس قدم اٹھائے اور مفسدوں کی بیخ کنی میں سخت موقف اختیار کرے۔
حضرت معاویہ جیسے ہوش مند انسان سے کیسے ممکن تھا کہ وہ اس اقتضاء حکومت کو نظر انداز کردیتے اور فتنہ کے استیصال میں غفلت برتتے، چنانچہ برسرِ اقتدار آتے ہی انھوں نے فتنہ وبغاوت کے سدباب کو ضروری سمجھا اور شرپسند عناصر کی سرکوبی کی ملک گیر مہم چلائی اور باغیوں (شیعوں) کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنا اور سزائیں دینا شروع کردیا جس سے بہت سے شیعہ قتل ہوکر اپنے کیفرکردار کو پہنچے اور کچھ لوگوں نے سزا کے خوف یا موت کے ڈرسے روپوشی اختیار کی۔ اور کتمان مذہب (تقیہ) کرکے جان بچانے میں عافیت سمجھی۔
ایک شیعہ موٴرخ اس وقت کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
”شیعان علی کے مال ومتاع ضبط کرلیے گئے، وہ قتل کیے گئے اور اس قدر ظلم ان پر کیے گئے کہ کوئی اپنے کو شیعہ نہ کہہ سکتا تھا۔“ (تاریخ اسلام ص ۳۳، ج:۱، از ذاکر حسین جعفری شیعہ)
مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ بہت سے شیعہ قتل ہوکر ٹھکانے لگ گئے اورجو کچھ باقی رہے وہ بھی اس قدر دہشت زدہ اور خائف تھے کہ خود شیعہ کہلوانا چھوڑدیا تھا۔اور اپنے انجام بد کے ڈرسے خانہ نشین ہوگئے۔
یہ لوگ بظاہر خاموش ہوگئے، مگر درحقیقت ان کے سینوں میں بغض معاویہ کی آگ بدستور بھڑک رہی تھی۔ اور وہ ان کے خلاف سانپ کی طرح پیچ وبل کھارہے تھے اور ان کی حکومت سے گلوخلاصی اور چھٹکارے کے شدت سے منتظر تھے۔
   چنانچہ بیس سال انتہائی کامیاب حکومت کرنے کے بعد ۲۲/رجب ۶۰ھ کو ملت اسلامیہ کا یہ عظیم مدبر دنیا سے رخصت ہوگیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون.
حاسدین معاویہ کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیاہوسکتی تھی کہ ان کا جانی دشمن دنیا میں نہیں رہا، اس لیے انھوں نے وفات معاویہ کی خبر سن کر خوب خوشیاں منائیں اور اظہار مسرت کے طور پر میٹھی ٹکیاں (کونڈوں کی پوریاں) بنائیں اور ایک دوسرے کو کھلاکر اپنے جذبہٴ عناد کو تسکین دی، اور یہ ساری کاروائی سنیوں سے چھپ کر اور پوشیدہ طریقہ سے انجام دی گئی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کاروائی مخفی کیوں رکھی گئی اور انھوں نے وفات معاویہ پر اپنی خوشی کا اظہار کھلم کھلا کیوں نہیں کیا؟ مولانا عبدالعلی صاحب فاروقی اس کی وجہ لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
”کیوں کہ اس وقت اہل سنت وجماعت کا غلبہ تھا اور وہ صحابیٴ رسول کی توہین اور ان کی وفات پر اظہار مسرت کو برداشت نہیں کرسکتے تھے اس لیے رافضیوں نے چھپ چھپاکر اپنے اپنے گھروں میں ہی ٹکیاں بنالیں اور انہیں آپس میں تقسیم کرکے خفیہ طور پر اظہار مسرت کرکے دشمنیٴ اصحاب کا ثبوت فراہم کیا، بعد میں جب اس کا چرچا شروع ہوا تو نہایت ہی شاطرانہ انداز میں حضرت امام جعفر صادق کی طرف منسوب کردیا۔ (تعارف مذہب شیعہ ص ۱۵۸)
یہی وجہ ہے کہ اس رسم میں آج تک اس بات کی پابندی ہے کہ کونڈوں کی ٹکیاں کسی خفیہ جگہ پر پکائی جاتی ہیں۔ پھر بڑے اہتمام سے انھیں ڈھک کر رکھا جاتا ہے اور فاتحہ بھی کسی اندھیری جگہ پر دلائی جاتی ہے۔ اور پھر پردے کے ساتھ ہی انھیں کھایا کھلایا جاتا ہے۔
لیکن آگے چل کر جب اس سازش کی خبر سنیوں کو ہوئی اور اس راز سربستہ سے پردہ اٹھا تو شیعوں نے اپنا جرم چھپانے کے لیے اس کا رخ امام جعفر صادق کی فاتحہ کی جانب موڑ دیا۔
یہ ہے اس رسم کی اصل اور حقیقت۔ جس میں نادانستہ طورپر بعض ناخواندہ اہل سنت بھی شریک ہیں۔ اور اس رسم کو امرِ دین اور کارِ ثواب سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ نہیں جانتے کہ یہ ”حب علی کے پردے میں بغض معاویہ“ کا مصداق ہے۔
***
---------------------------------
ماہنامہ  دارالعلوم ، شماره 07 ، جلد: 93 رجب 1430 ھ مطابق جولائى  2009ء

Film Khuda k liye

فلم  خدا کیلئے“  قہرِ الٰہی کو دعوت 

مولانا سعید احمد جلال پوری مضمون نگار: 
بواسطہ:

ماہنامہ دارالعلوم ديوبند
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 3‏، جلد: 92 ‏، ربیع الاول 1429 ہجری مطابق مارچ 2008ء
موضوعات:

| حالات حاضرہ | | میڈیا / ذرائع ابلاغ | | اجتماع ومعاشرت |



                آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی جو جو علامات ارشاد فرمائی ہیں، کسی قدر معمولی غور وفکر سے دیکھا جائے تو وہ منظر قریب قریب اب ہمارے سامنے ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمارا دور کہیں وہی نہ ہو، نہیں تو وہ دور ہم سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے، اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
                ”عن موسیٰ بن ابی عیسیٰ المدینی، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ”کیف بکم اذا فسق فتیانکم وطغیٰ نساء کم؟ قالوا یا رسول اللّٰہ! وان ذالک لکائن؟ قال نعم وأشد منہ، کیف بکم اذا لم تأمروا بالمعروف وتنہوا عن المنکر؟ قالوا یا رسول اللّٰہ وان ذلک لکائن؟ قال نعم واشد منہ کیف بکم اذا رأیتم المنکر معروفًا والمعروف منکرًا“۔ (کتاب الرقائق، ابن مبارک ص:۴۸۴)
ترجمہ: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے نوجوان بدکار ہوجائیں گے، اور تمہاری لڑکیاں اور عورتیں تمام حدود پھلانگ جائیں گی، صحابہ کرام نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا ایسا بھی ہوگا؟ فرمایا: ہاں، اوراس سے بڑھ کر،اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟ جب نہ تم بھلائی کا حکم کروگے، نہ بُڑائی سے منع کرو گے، صحابہ کرام نے عرض کیا، یا رسول اللہ! کیا ایسا بھی ہوگا؟ فرمایا: ہاں، اوراس سے بھی بدتر، اس وقت تم پر کیا گزرے گی؟ جب تم برائی کو بھلائی اور بھلائی کو بُرائی سمجھنے لگوگے۔“
                ہمارے معاشرے کی بدلتی قدروں اور شروفتنہ کی نت نئی شکلوں کا جائزہ لیجئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اب ہم جس طرح بڑی بڑی برائیوں اور فحاشی وغلاظت کی ایمان شکن کارروائیوں کو صبر و تحمل سے برداشت کررہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ایمان وایقان کی قوت مدافعت جواب دے چکی ہے اور ہمارے دلوں سے ایمانی غیرت اور دینی حمیت رخصت ہوچکی ہے، اور ہماری ایمانی روح مرچکی ہے۔ ہم ذلت وادبار کی کس گہرائی میں گرچکے ہیں، دین ومذہب سے کس قدر دور جاچکے ہیں؟ اور ہواوہوس پرستی، عریانی، فحاشی، راگ باجے اور خواہش نفس کے سامنے اس قدر مجبور ہوچکے ہیں، کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں کو ناجائز و حرام قرار دیاتھا، ہم پوری قوت و طاقت سے ان کو حلال و جائز قرار دینے کے لئے کوشاں ہیں۔
                آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ : ”بعثت بکسر المزامیر“ (کنزالعمال ص:۲۲۶، ج:۱۵) میں آلاتِ لہو ولعب کو توڑنے اور گانے بجانے کو مٹانے کے لئے مبعوث کیاگیاہوں؛ مگر اسکے برعکس ابنائے کفر اور ذریتِ ابلیس نے ہمیں اپنی مخصوص حکمت عملی اور عیاری سے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن اور سنت کے مقابلہ میں لاکھڑاکردیا اورہم خدا کے نام سے منسوب فلم ”خدا کے لئے“ کے عنوان سے پورے دین ومذہب اور شریعت کا مذاق اڑانا شروع ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
                چنانچہ نئی نسل کو دین ومذہب اور علماء سے متنفر وباغی کرنے، داڑھی، ارتداد کی شرعی سزا، اسلامی لباس، مذہبی عسکریت پسندی، طالبان کی اسلام پسندی کی بُرائی، قباحت اور شناعت دلوں میں بٹھانے کے علاوہ موسیقی کی حلت، مسلم لڑکی کے غیرمسلم سے نکاح، اوباش اور آوارہ زندگی، بے حیائی و بے شرمی اور خواتین کی مادرپدر آزادی پر مشتمل ایک فلم بنوائی گئی،جس کا نام سن کر ہی دانتوں پسینہ آجاتا ہے کیونکہ: ”برعکس نہندنامِ زنگی کافور“ کے مصدق جس فلم میں اللہ سے عداوت و بغاوت اور کفر وطغیان کی تعلیم دی گئی ہو، اس کانام ”خدا کے لئے“ رکھ کر کیا نعوذ باللہ! اللہ تعالیٰ کے قہر کو دعوت نہیں دی جارہی ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب اور قہر کو جوش آئے اور ہم سب ہی نشانِ عبرت بن جائیں؟
                اس فلم کی ویب سائٹ اور اخباری اطلاعات کے مطابق اس فلم کا پس منظر یہ ہے کہ ایک گلوکار کو اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ خدا کی برکت سے ہدایت نصیف فرمائی تو اس نے گانے بجانے اور ڈھول تماشے کی گناہ آلود زندگی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ کر دین و شریعت کی زندگی اپنالی، جب اس نے اس غلیظ زندگی اور غلاظت بھرے ماحول سے توبہ کرکے معصیت کی جگہ طاعت، گناہ کی جگہ نیکی، بغاوت کی جگہ اطاعت، دنیا کی جگہ آخرت، ظلم کی جگہ عدل، ہوا وہوس کی جگہ دین وشریعت، گمراہی کی جگہ ہدایت کو اپنالیا اور ان کی دعوت و تبلیغ شروع کردی، تو ذریت ابلیس کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے، ان سے یہ برداشت نہ ہوسکا کہ ایک مسلمان راہ راست پر کیسے آگیا؟ اس پر حقیقت حال کیوں کھل گئی؟ اس نے اپنی خوبصورت آواز کو حمد ونعت اور تلاوت کلام اللہ میں استعمال کرنا کیوں شروع کردیا؟ اس نے گانے باجے اور راگ و رنگ کی مذمت کیوں شروع کردی؟ اس کے اس طرز عمل سے اس کے سینکڑوں پرستاروں نے اس غلیظ کوچہ وبازار سے کیوں منہ موڑ لیا؟ اس نے اور اس کے چاہنے والوں نے مسجد ومدرسہ کا رخ کیوں کیا؟اس کی دیکھا دیکھی مسلم نوجوان اس کی ہمنوائی کیوں کرنے لگے؟ وہ یورپ و امریکا کی جگہ حرمین شریفین کے چکر کیوں کاٹنے لگے، اس نے نفس و شیطان کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول کا دامن کیوں تھام لیا؟ وغیرہ وغیرہ۔
                یہ تھا وہ دکھ اوریہ تھی وہ تکلیف اور درد جس کی وجہ سے ضلالت وگمراہی کے پجاریوں اور دین و مذہب کے غداروں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے، چنانچہ انھوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے اور ان کو اس کا مزہ چکھانے کے لئے وہ کھیل کھیلا کہ شیطان بھی انگشت بدنداں ہوگا، شاید اس کو بھی یہ ترکیب نہ سوجھی ہوگی کہ کسی غلیظ فلم پر ”خدا کے لئے“ کاٹائٹل استعمال کیا جائے، کیا کوئی مسلمان یہ گوارا کرسکتاہے کہ کسی زناکاری، بدکاری، عیاشی، فحاشی اور جسم فروشی کے اڈے پر ”خدا کے لئے“ کا بورڈ سجادیا جائے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ایک ایسی فلم ․․․ میں احکام اسلام، شعائر اسلام اور منصوصات شرعیہ کا انکار کیا گیا ہو، جس میں غنی اور موسیقی جیسی لعنت کو․․․ کے بارہ میں ارشاد نبوی ہے: ”الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل“ (کنزل العمال، ص:۲۱۸، ج:۱۵) گانا باجا، دل میں اس تیزی سے نفاق پیدا کرتا ہے جس تیزی سے پانی سبزی کو اگاتا ہے․․․ جائز وحلال باور کرانے کی کوشش کی گئی ہو، جس میں داڑھی جیسے حکم شرعی کا مذاق اڑایا گیا ہو․․․ اس پر ”خدا کے لئے“ کا عنوان لگانا کیوں کر گوارا اور برداشت ہوسکتا ہے؟ نعوذ باللہ! کہیں یہ اس گھناؤنی سازش کا حصہ تو نہیں کہ آئندہ لوگ گناہ کو گناہ سمجھ کر نہیں؛ بلکہ نیکی سمجھ کر کیا کریں؟ کیا اس کا یہ معنی نہیں کہ آئندہ مسلمان خنزیر کے گوشت کو بکری کا گوشت سمجھ کر کھایا کریں؟ یا شرب اور پیشاب پر زمزم کا لیبل لگاکر استعمال کیا کریں؟ یا پھر نعوذ باللہ ! ناچ گانے کے لب پر بیت اللہ کا بورڈ لگاکر اس کنجر خانہ کو بیت اللہ کا نام دیا جائے؟
                ہائے افسوس! کہ مسلمان تقلید مغرب میں اس قدر مسخ ہوگیا ہے کہ اب وہ جھوٹ، سچ اور حق و باطل کے درمیان حائل دیوار گرانے پر تل گیا ہے اور جو کام دنیائے کفر اور ذریت ابلیس نہ کرسکی تھی، اس کا ذمہ اس نام نہاد مسلمان نے اٹھالیاہے؟ کیا کہا جائے ایسے لوگ مسلمان کہلانے کے لائق ہیں؟ یا کافر؟ کیا صرف اسلامی نام رکھنے سے آدمی مسلمان بن جاتاہے؟ دیکھا جائے تو ان فلم سازوں نے مسلمانوں کی دینی، ملی غیرت پر حملہ کیا ہے، بلاشبہ یہ فلم محض فلمی کردار نہیں؛ بلکہ دین و مذہب، امانت ودیانت، شرافت و صداقت، عفت وعصمت، حمیت وغیرت، شرم وحیاء، تقویٰ تدین، غرض تمام دینی اقدار کے خلاف کھلی بغاوت اور اعلان جنگ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کافر ومسلمان کے باہمی نکاح کو ناجائز وحرام قرار دے کر،اس پر پابندی لگاتے ہوئے فرمایا تھا:
                ”ولا تنکحوا المشکرات حتی یوٴمن ولامة موٴمنة خیر من مشرکة، ولو اعجبتکم ولا تنکحوا المشرکین حتی یوٴمنوا، ولعبد مومن خیر من مشرک ولو اعجبکم، اولئک یدعون الی النار، واللّٰہ یدعو الی الجنة والمغفرة باذنہ ویبین آیاتہ للناس لعلہم یتذکرون“ (البقرہ:۲۲۱)
ترجمہ: ”اور نکاح مت کرو مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لے آئیں اور البتہ لونڈی مسلمان بہتر ہے مشرک بی بی سے اگرچہ وہ (مشرک عورت) تم کو بھلی لگے اور نکاح نہ کرو مشرکین سے جب تک وہ ایمان نہ لے آویں اور البتہ غلام مسلمان بہتر ہے، مشرک سے اگرچہ وہ (مشرک مرد) تم کو بھلالگے، وہ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ بلاتا ہے جنت کی اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے اور بتلاتا ہے اپنے حکم لوگوں کو تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔“ (ترجمہ شیخ الہند)
                مگر یہ باغیانِ دین ومذہب کہتے ہیں ہمیں یہ پابندی قبول نہیں؛ بلکہ نعوذ باللہ مسلمان لڑکی کسی کافر ومشرک کے نکاح میں دی جاسکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اس فلم میں مسلمان لڑکی کے غیر مسلم سے شادی رچانے کو نہ صرف جائز قرار دیاگیا ہے؛ بلکہ گویا اس کی ترغیب دی گئی ہے۔
                کیا یہ دین و شریعت اور قرآن وسنت سے اعلان بغاوت نہیں؟ کیا یہ کتاب اللہ کا انکار نہیں؟ کیاکتاب اللہ کاانکار کفر نہیں؟ کیا کہا جائے کہ یہ فلم کفر و ارتداد کی اشاعت و ترویج کے لئے بنائی گئی ہے؟ یا مسلمانوں کی گرتی ساکھ بحال کرنے کے لئے؟ کیا اس فلم کے بنانے والے، اس کی اشاعت و ترویج کرنے والے مسلمان ہیں؟ کیا سمجھا جائے کہ ایسے لوگ مسلمانوں کے ترجمان ہیں؟ یا دنیائے کفر کے ایجنٹ؟ پھر جو لوگ اس فلم کی خرید وفروخت اور دیکھنے دکھانے کے اعتبار سے اسلام دشمنوں کے مذموم مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بن رہے ہیں، کیا وہ اس میں برابر کے شریک نہیں؟
                ہائے افسوس! کہ مسلمان کو اس کا احساس تک نہیں رہا کہ اس کی صلاحیتیں، اس کی جان ومال کہاں خرچ ہورہا ہے؟ اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا وزن اسلام دشمنوں کے پلڑے میں ڈال کر اپنی دنیا وآخرت تباہ کررہا ہے۔
                اسی طرح دنیائے کفر اور یہود ونصاریٰ کے ایجنٹ اس فلم کی اشاعت، ترویج اور مقبولیت کے اظہار وبیان کے لئے اخبارات، رسائل اور میڈیا میں بڑے بڑے اور جہازی سائز کے اشتہارات شائع کرکے باور کراتے ہیں کہ اب تک اس فلم کو اتنے اتنے لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔
                گویا وہ اپنے تئیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے مقاصد میں اس قدر کامیاب ہوگئے ہیں؟ حالانکہ ان کم نصیبوں کو یہی نہیں معلوم کہ یہ سب کچھ ان کی مخالفت میں جارہاہے۔
                کیونکہ اس فلم کے دیکھنے والے ان لاکھوں افراد کی گمراہی وضلالت کا وبال وگناہ بھی ان کم نصیبوں کے نامہٴ اعمال میں لکھا جارہا ہے، اس لئے کہ: ”من سن فی الاسلام سنة سیئة کان علیہ وزرہا ووزر من عمل بہا“ (مشکوٰة ص:۳۳) جس نے کوئی بُرا طریقہ ایجاد کیا، اس کا وبال اور ان سب لوگوں کا وبال جنھوں نے اس کی تقلید میں اس بُرے عمل کو اپنایا، اس کی گردن پر ہوگا۔
                اب بتلایا جائے کہ فلم بنانے، اس کی اشاعت و ترویج یا خرید و فروخت کرنے والوں کو اس پر خوش ہونا چاہئے یا رونا چاہئے؟
                بلاشبہ جب کوئی شخص دین ومذہب سے بیزار، فکر آخرت سے عاری، اور ہوا وہوس کا پرستار بن جائے، تو وہ نفع نقصان کے احساس سے محروم ہوجاتا ہے؛ بلکہ وہ جائز وناجائز اور حلال وحرام کے تصور سے بھی نا آشنا ہوجاتا ہے، اُسے مضر ومفید بلکہ اسے زہر و تریاق میں کوئی فرق نہیں نظر آتا۔
                یہی کچھ اس بدنام زمانہ فلم ”خدا کے لئے“ کے ڈائریکٹر شعیب منصور کے ساتھ ہوا ہے، چنانچہ اس فلم کی ویب سائٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف مصوری اور موسیقی کے عشق میں اتنا آگے جاچکے ہیں کہ خیر سے اب وہ عقل ودانش کی تمام حدیں پار کرچکے ہیں، جیسا کہ وہ فرماتے ہیں:
”میں اس بات پر کبھی یقین نہیں کرسکتا کہ اللہ دنیا میں اپنی ہی عطا کردہ خوبصورت ترین چیزوں سے نفرت کرے گا، یعنی موسیقی اور مصوری۔“
                کیا کہا جائے کہ موصوف کی عقل وخرد اور دل ودماغ درست ہیں؟ کہیں یہ صاحب ذہنی مریض تو نہیں؟ ورنہ کوئی معمولی عقل و فہم کا انسان اس کے سمجھنے سے قاصر نہیں کہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، سب ہی اللہ کی پیدا کردہ اور عطا کردہ ہیں، یہ دوسری بات ہے کہ ان میں سے جو چیزیں انسان کے لئے مفید ونفع بخش تھیں، ان کے استعمال کو حلال و جائز قرار دیاگیا اور جو انسانوں کے لئے نقصان دہ یا ضرر رساں تھیں ان کو حرام اور ناجائز قرار دیاگیا۔
                اس تفصیل کے بعد موصوف کا یہ ارشاد کیونکر درست ہوسکتا ہے؟ کہ: ”میں اس بات پر کبھی یقین نہیں کرسکتا کہ اللہ دنیا میں اپنی ہی عطا کردہ خوبصورت ترین چیزوں سے نفرت کرے گا، یعنی ”موسیقی اور مصوری“ کیا دنیا میں جتنی حرام وناپاک چیزیں ہیں، ان کو اللہ کے علاوہ کسی اور نے پیدا یا عطاکیا ہے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو کیا یہ مشرکین مکہ کا عقیدہ نہیں تھا کہ وہ خالق خیر اور خالق شر کو دو الگ الگ خدا مانتے تھے؟ اب بتلایاجائے کہ موصوف کا یہ ارشاد اسلام سے میل کھاتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔
                چلو اگر موصوف کے اس فلسفہ کو مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تمام چیزیں حلال وپاک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے نفرت نہیں کرتا تو کیا ہم ان سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ جتنی حرام چیزیں ہیں وہ اللہ کی عطاکردہ نہیں ہیں؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کے لئے بہت ساری چیزوں کے علاوہ بہت سے ایسے رشتے بھی بنائے ہیں جن سے نکاح شادی حرام ہے، مثلاً ماں، بیٹی، بہن، خالہ، بھتیجی، بھانجی وغیرہ، کیا یہ رشتے اللہ کے عطاکردہ اور خوبصورت نہیں ہیں؟ اگر کسی کی بیٹی اور بہن خوبصورت ہوتو کیا وہ خدانخواستہ اس سے شادی رچا سکتا ہے؟ اسی طرح کیا خنزیر، کتا، بھیڑیا اور سانپ وغیرہ اللہ کے پیدا کردہ جانور نہیں ہیں؟اگر ہیں تو کیا جناب فلم ساز صاحب ان کے بارے میں فرمادیں گے کہ یہ سب حلال ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ہی عطا کردہ چیزوں سے نفرت نہیں کرتا۔ کیا سمجھا جائے کہ موصوف ان کے حلال ہونے کے قائل ہیں؟ کیا وہ سورخور ہیں؟ کیا وہ اپنی بہن، بیٹی اور ماں سے جنسی تقاضے پورے کرنے کے قائل ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں، تو موسیقی اور مصوری کے بارہ میں اس ہرزہ سرائی کا کیا معنی؟
                پھر یہ بات بھی محل نظر ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے موسیقی عطا فرمائی ہے“ اس لئے کہ موسیقی اللہ کی عطا نہیں؛ بلکہ انسان کااپنا فعل ہے، لہٰذا جیسے یہ کہنا جائز نہیں کہ زنا اور قتل و غارت گری اللہ کی عطا کردہ ہے، اسی طرح موسیقی اور مصوری کو بھی اللہ کی عطا کہنا جہالت و بے عقلی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت اور عقل سلیم نصیب فرمائے۔ آمین۔
                الغرض سمجھ نہیں آتا کہ یہ دنیا کے پجاری اس ایمان شکن اور گمراہ کن فلم پر اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ کیا ان کو مرنا نہیں؟ کیا ان کو موت، آخرت اور قیامت پر ایمان نہیں؟اگر ہے اور یقینا ہے، جیساکہ فلم سازوں کے ناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ خیر سے وہ بھی مسلمان ہیں، تو بتلایا جائے کہ وہ اس بغاوتِ اسلام پر اللہ کے سامنے کیا جواز پیش کریں گے؟
                بھلا جہاں ہر شخص کو اپنی نجات کے لالے پڑے ہوں گے، وہاں یہ لوگ اس ایمان شکن واخلاق سوز فلم کے ذریعہ گمراہ اور بے راہ ہونے والے کروڑوں انسانوں کے ایمان وعمل کو غارت کرنے کا وبال کیونکر برداشت کرسکیں گے؟
                اس لیے اس فلم کو خریدنا، بیچنا، اس کی تشہیر کرنا دیکھنا اور دکھانا سب ناجائز، حرام اور گناہ کبیرہ ہے؛ بلکہ اندیشہ ہے کہ اس گستاخی پر ایمان نہ سلب ہوجائے، اسی طرح جن لوگوں نے یہ فلم بنائی ہے ان کو چاہئے وہ اس ایمان شکن فعل سے توبہ کریں اور بغاوت خداوندی کے اس نشان کو ختم کریں، ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کا نشانہ نہ بن جائیں۔
                لہٰذا ہم فلم کے بنانے، بنوانے، اس کی تشہیر کرنے، سنیما ہالوں پر چلانے، دیکھنے اور خرید وفروخت کرنے والوں سے نہایت دل سوزی سے عرض کرنا چاہیں گے کہ اپنی دنیا وآخرت خراب نہ کریں، اور اس گھاٹے کے سودے سے فوراً رجوع کرلیں، ورنہ بہرحال اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
واللّٰہ یقول الحق وہو یہدی السبیل
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
$ $ $
---------------------------------
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 3‏، جلد: 92 ‏، ربیع الاول 1429 ہجری مطابق مارچ 2008ء

Internet ki Halaakat khyziyaan aur Un se Bachne ki Tadaabeer

انٹرنیٹ کی ہلاکت خیزیاں اور ان سے بچنے کی تدابیر 

 

مضمون نگار

مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی، حیدرآباد‏، استاذ دارالعلوم رحمانیہ و منتظم مجلس علمیہ آندھرا پردیش

موضوعات

| حالات حاضرہ | | میڈیا / ذرائع ابلاغ | | مغربی تہذیب وسامراج |



       انسانی اقدار روز بروز روبہ زوال ہیں، اخلاق وکردار کی گراوٹ روز افزوں ہے، بعض طبقوں کی جانب سے اپنے حقیر مفادات کے حصول کے لیے اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی ہے، یہ مسئلہ اس وقت اور سنگین ہوجاتا ہے جب نوجوان نسل کی بات آتی ہے؛ کیونکہ یہ کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، کسی بھی قوم کے انقلاب میں گراں قدر حصہ انہی نوجوانوں کا ہوتا ہے، دوسری طرف نوجوان عقل کے کچے اور جذبات کے اندھے ہوتے ہیں، جس طرف ان کی عقل چل گئی، چل گئی․․․ جیسی بھی ان کی فکر بن گئی، بن گئی ․․․ زندگی کا یہ دور بڑا نازک ہوتا ہے․․․ اس مرحلہ میں آدمی بنتا بھی ہے بگڑتا بھی ہے، جو نقوش اس وقت مرتب ہوتے ہیں، زندگی بھر کے لیے ہوتے ہیں، کل حشر کے میدان میں بھی بطورِ خاص زندگی کے اس حصہ کے اعمال کی باز پرس ہوگی۔ (الحدیث)
       لن تزول قدما عبدٍ یوم القیامة حتی یسئل عن أَربع خصال، عن عمرہ فیما أَفناہ، وعن شبابہ فیما ابلاہ، وعن مالہ من این اکتسبہ وفیما أَنفقہ وعن علمہ ماذا عمل فیہ (الترغیب والترہیب: ۴/۲۱۴)
کسی شخص کے قدم قیامت کے دن اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے جب تک کہ چار باتوں کی اس سے پوچھ گچھ نہ ہوجائے: (۱) عمر کہاں لگائی؟ (۲) جوانی کہاں گنوائی؟ (۳) مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ (۴) علم پر کہاں تک عمل کیا؟
       جس قوم کے جوانوں میں عقابی روح بیدار ہوتی ہے، کچھ کرگزرنے کا جذبہ ان میں انگڑائی لینے لگتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ وہ قوم ترقی کی معراج پر ہوتی ہے اور جس قوم کے جوان خوابیدگی کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ قوم روز افزوں تنزل کی طرف بڑھتی رہتی ہے۔
       سائنس و ٹکنالوجی کی دم بخود ترقی نے جہاں نئے، نئے ایجادات اورانکشافات سے دنیا کے لیے سہولیات اور معلومات کا انبار لگادیا، وہیں اس نے دنیائے شہوت پرستی کے لیے نئی راہیں بھی کھول دیں،مواصلاتی دوریوں نے سمٹ کر جہاں انسانیت کو آسانیاں دیں، وہیں نفسانی خواہشات کے دیوانوں کو تسکین کا سامان بھی کیا، چند دن قبل شائع شدہ اخباری رپورٹ کے مطابق ”کچے گوشت“ کی دلالی کا کاروبار بھی انٹرنیٹ پر زور و شور سے ہورہا ہے، جس میں مالدار اور ان میں بالخصوص نوجوان نسل کو مائل کیاجارہا ہے اور بڑی بھاری رقومات ان سے حاصل کی جارہی ہیں؛ بلکہ اس بہانےDebit اور Credit کارڈس کے نمبرس حاصل کرتے ہوے اور ان کے Passwords کو محفوظ کرتے ہوے کھاتے خالی کیے جارہے ہیں․․․ یعنی اخلاق وایمان کی بربادی کے ساتھ مال کی بھی بربادی ․․․ اس کے علاوہ بیسیوں ویب سائیٹس فحش مناظر اور لٹریچر سے بھری ہیں․․․ جذبات مشتعل بھی کیے جارہے ہیں اور اس کی تسکین کے لیے دلالی بھی کی جارہی ہے۔
       حکومت کی جانب سے انفارمیشن ٹکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں؛ لیکن انتہائی بے ہودہ اور فحش ویب سائیٹس کو بند کرنے کے لیے کسی بھی طرح کا اقدام نہیں کیاگیا اور نہ ہی انٹرنیٹ فراہم کرنے والوں نے اپنی اخلاقی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوے اس طرح کی ویب سائیٹس کو بند کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں ایسا لگتا ہے جیسے بے حیائی اور فحاشی کا سیلاب امڈ آیا ہے اور بالخصوص نوجوان نسل اس کی زد میں ہے۔
       بی بی سی ٹیلی ویژن نے اس سلسلہ میں ماہرینِ نفسیات اور عام شہریوں کے درمیان ۲۰۰۳/ سے قبل ایک مباحثہ کا اہتمام کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۵/فیصد سے زائد افراد ہیجان انگیز اور عریاں مواد سے دل بہلاتے ہیں، اسی مباحثہ میں اس رپورٹ کا بھی افشاء کیاگیا کہ ۹/فیصد برطانوی لوگ فی ہفتہ گیارہ گھنٹے جنسی تصاویر دیکھتے ہیں، یہ رپورٹ آج سے چار سال قبل کی ہے، جب انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا شیوع اس قدر نہیں تھا، غریب طبقے کے مقابلے میں مالدار لوگ انٹرنیٹ پر شہوانیت کے نت نئے طریقے سیکھ رہے ہیں، جنسی طور پر ایک دوسرے کو تکلیف دے کر خوش ہونا، ہم جنس پرستی، جانوروں سے تعلقات، چھوٹے بچوں، بچیوں، عورتوں، بوڑھوں، ماں، بہن،بیٹی کے ساتھ عمل قوم لوط، زنا بالجبر اور دیگر کئی طرح کی چیزیں مالدار اور انٹرنیٹ سے مربوط نوجوان نسل سیکھ رہی ہے، جس کو وہ اپنے معاشرے اور بیویوں کے ساتھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس سے رشتوں کا تقدس بھی پامال ہورہا ہے اور شادی شدہ جوڑے بے کیفی کی زندگی گزار رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ میں کئی لاکھ جوڑے ایسے ہیں جن کی ازدواجی زندگی انٹرنیٹ کی وجہ سے تباہ ہوچکی ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت انٹرنیٹ پر دس لاکھ سے زائد عریاں تصاویر موجود ہیں اور ایک لاکھ سے زائد عریاں فلمیں انٹرنیٹ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔
       یہ تو ان بے ہودہ اور غلط پروگراموں کی ہلکی سی جھلک ہے، حقیقتاً ایسے بہت سے پروگرام انٹرنیٹ پر کمپیوٹر کے ذریعہ دستیاب ہیں جنھیں دیکھ کر شرافت آنکھیں بند کرلیتی ہے۔
       ماں باپ اور سرپرت پوری احساس ذمہ داری کے باوجود اپنی نوجوان نسل کو اس طرح کے فواحش سے روکنے میں بہت کم کامیاب ہیں․․․ بالخصوص پڑھا لکھا طبقہ، ان کے یہاں اگر بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال سے روکا جائے تو معلومات کے ایک اہم ذخیرہ سے وہ محروم رہیں ․․․ اگر اپنے گھر انٹرنیٹ رکھیں تو ان کی نگرانی کیسے کی جائے؟ اور ان کو فحش ویب سائیٹس سے کیسے بچایا جائے․․․ انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک گاؤں کی شکل دے رکھی ہے، یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس سے کروڑہا افراد بیک وقت مربوط اور ایک دوسرے کے خیالات اور سہولتوں سے استفادہ کرسکتے ہیں، یہاں ہر اہم عالمی چیز آپ کو مل جاتی ہے، اس کی معلومات، تعارف اور توضیحات بس ایک ”کلک“ کی محتاج، کسی بھی اہم مسئلہ کی عقدہ کشائی چند منٹوں میں ہوجاتی ہے، دنیوی میدان کی بہت کم چیزیں ایسی ہیں جو انٹرنیٹ پر دستیاب نہ ہوں، معلومات کے حصول کی اتنی بڑی سہولت سے اگر آپ ان کو روکنا چاہیں تو یہ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور حصول تعلیم کے ذرائع سے روکنے کا الزام بھی آپ کے سر لگادیا جائے گا۔
       یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ دین محض نماز، روزے اور دیگر عبادات ہی کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر عمل اور ہر حرکت کے لیے دینِ اسلام میں رہنمائی موجود ہے اور بحیثیت مسلمان ہمیں ان کا اتباع بھی لازم ہے۔
       لہٰذا اس تعلق سے اعتدال کی راہ یہ ہے کہ اسلامی حدود میں رہتے ہوے اس کا استعمال ہو اور اس کے برے اثرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، آپ کو یہ جان کر یقینا حیرت ہوگی اور آپ مسرور بھی ہوں گے کہ انٹرنیٹ کے مختلف پروگرام چلانے کے لیے جہاں بہت سے سافٹ ویر ہیں، وہیں چند ایک پروگراموں اور Sex Based Sites کو (Block) بند کرنے کے لیے بھی چند ایک سافٹ ویر موجود ہیں۔
       اگرآپ کے نیٹ فراہم کرنے والے مخصوص اور غیرشرعی ویب سائیٹس کو بند کرنے کی کوئی سہولت نہ دیں تو آپ مندرجہ ذیل سافٹ ویرس کی مدد سے جو مارکیٹ میں دستیاب بھی ہیں، نامناسب، غیر اخلاقی، فحش اوراسلام مخالف ویب سائیٹس کو بند کرسکتے ہیں، ان سافٹ ویرس کے نام حسبِ ذیل ہیں:
(1) Cyber Sitter.   (2) Net Nanny.                      (3) Cyber Petrol.
(4) Norton Internet Security.       (5) Mcafee Parental Control.
       ان سافٹ ویرس کو اپنے کمپیوٹر پر انسٹال Instal کریں، اس کے بعد ان کی Setting کریں، یہ فحش ویب سائیٹس کو بلاک (بند) کردیتے ہیں، دراصل یہ سافٹ ویرس بھی غیراسلامی ویب سائیٹس کو بنیادی طور پر بند نہیں کرتے لیکن ان میں ایسے آپشنز (Options) ہوتے ہیں جن کی مدد سے آپ کسی بھی غیرشرعی اور فحش ویب سائیٹ کو بند اور Block کرسکتے ہیں، ان سافٹ ویرس کی سیٹنگ (Setting) مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
       سافٹ ویر کی مدد سے فحش اور غیراسلامی لٹریچر سے بچنے کا یہ طریقہ ان حضرات کے لیے تھا، جہاں حکومت اور نیٹ فراہم کرنے والے ادارے اس طرح کی ویب سائیٹس کو بلاک (بند) کرنے کی کوئی سہولت اپنے صارفین کے لیے فراہم نہ کیے ہوں، ان کے بالمقابل ترقی یافتہ ممالک میں اقامت پذیر لوگوں کے لیے یہ مسئلہ آسان ہے، وہ اس طور پر کہ ان ممالک کے لوگ جب انٹرنیٹ کا کنکشن (Connection) خریدیں تو اس وقت اس کمپنی سے جس سے انٹرنیٹ خرید رہے ہیں یہ کہیں کہ ہمیں Parental Control چاہیے یا اگر انٹرنیٹ خریدتے وقت کمپنی کوئی فارم پر کروالے تو اس میں Parental Control پر ٹک لگادیں، اس طریقہ پر جب آپ اُس انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے صارف بنیں گے تو آپ کے گھر استعمال ہونے والے کمپیوٹر پر فحش مواد پر مبنی ویب سائیٹس نہیں کھلیں گے۔
       انٹرنیٹ کی مضرتوں سے بچنے کے لیے مذکورہ بالا طریقوں کو اختیار کرنا اور اپنے گھر والوں کے ایمانی، اسلامی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار کے تحفظ کے لیے ان کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہے؛ ورنہ انٹرنیٹ سے ضرر رساں تعلق قائم کرتے ہوے آپ یہ بھی ضرور سوچ لیں کہ آپ اپنے گھر والوں کے مذہب، تہذیب اور اخلاق کی تباہی کے ذمہ دار بھی ہیں، آپ کی بچی کسی اجنبی سے بات کرے تو کیا آپ بے تعلق رہ سکتے ہیں؟ آپ کا بچہ گلیوں میں نکل کر اجنبیوں سے راہ و رسم بڑھاے تو کیا آپ خاموش رہیں گے؟ یقینا ہرگز نہیں؛ لیکن یقین کریں کہ انٹرنیٹ پر گھر بیٹھے یہی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں، شیطان اور اس کے پیروکار گھروں میں گھس کر ہمیں تباہ کررہے ہیں اور ہماری نسلوں کو بے حیائی اور بدچلنی پر برانگیختہ کررہے ہیں۔
       اس ٹکنالوجی سے اوراس پر موجود علمی مواد سے فائدہ اٹھانے کے وقت یہ بات ضرور سامنے رہنی چاہیے کہ اس کے فاسد مواد اور نقصانات سے کس طرح بچا جاسکتا ہے۔
$ $ $
______________________________
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ5، جلد: 91 ‏، ربیع الثانی1428 ہجری مطابق مئی2007ء

Shauhar ka Dil Jeetnay key Tareeqay

http://www.tasawwuf.org/writings/urdu_books/misali_azdawaji/misali_6.pdf
شوہر کا دل جیتنے کے طریقے
مثالی ازدواجی زندگی کے سنہری اصول کا چھٹا حصہ
پیر حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندیؒ
Tags: Peer Zulfiqar Ahmad Naqshbandi Books, Misaali Azdawaji Zindagi k Sunehri Usool, Shadi Books,

Bv k liye Bees Sunehri Usool

http://www.tasawwuf.org/writings/urdu_books/misali_azdawaji/misali_5.pdf
بیوی کیلئے بیس سنہری اصول
مثالی ازدواجی زندگی کے سنہری اصول کا پانچواں حصہ
پیر حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندیؒ
Tags: Peer Zulfiqar Ahmad Naqshbandi Books, Misaali Azdawaji Zindagi k Sunehri Usool, Shadi Books,

Shohar k liye Das Sunehri Usool

http://www.tasawwuf.org/writings/urdu_books/misali_azdawaji/misali_3.pdf
شوہر کیلئے دس سنہری اصول
مثالی ازدواجی زندگی کے سنہری اصول کا تیسرا حصہ
پیر حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندیؒ
Tags: Peer Zulfiqar Ahmad Naqshbandi Books, Misaali Azdawaji Zindagi k Sunehri Usool, Shadi Books,

Shohar ki Das Khatarnak Ghalatiyan

http://www.tasawwuf.org/writings/urdu_books/misali_azdawaji/misali_2.pdf
شوہر کی دس خطرناک غلطیاں
مثالی ازدواجی زندگی کے سنہری اصول کا دوسرا حصہ
پیر حضرت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندیؒ
Tags: Peer Zulfiqar Ahmad Naqshbandi Books, Misaali Azdawaji Zindagi k Sunehri Usool, Shadi Books,