Ahle Sunnat wal Jamaat ka Mukhtasar Taaruf

اہل سنت والجماعت کا مختصر تعارف
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ (م 150 ھ)
امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ ( م 189 ھ)
امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ (م 204 ھ)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ (م 241 ھ)

ان ائمہ کرام نے اپنی خداد داد علمی و فکری صلاحیتوں اور مجتہدانہ بصیرت کی بناء پر اپنے اپنے دور میں حسب ضرورت قرآن و حدیث سے مسائل فقہ مرتب کئے، یوں ان ائمہ کے زیر اثر چار فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے۔
امام ابوحنیفہ اسلامی عالم تھے جن کی وجہ شہرت احادیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اکٹھا اور تدوین دینے کی وجہ سے ہے۔ وہ لوگ جو اس مجموعہ حدیث کو ہی کامل مانتے ہیں حنفی کہلاتے ہیں اور ابوحنیفہ اسطرح اس فقہ حنفی کے بانی امام سمجھے جاتے ہیں۔
ابتدائی زندگی
آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ تمام ائمہ کے مقابلے میں سب سے بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔
آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔ آپ نے اپنی عمر مبارک میں 7 ہزار مرتبہ ختم قرآن کیا۔ 45 سال تک ایک وضو سے پانچوں نمازیں پڑھیں، رات کے دو نفلوں میں پورا قرآن حکیم ختم کرنے والے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ دن کو علم پھیلاتے اور رات کو عبادت کرتے، ان کی حیات مبارکہ کے لاتعداد گوشے ہیں۔ ائمہ حدیث آپ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک طرف آپ علم کے سمندر ہیں اور دوسری طرف زہد و تقویٰ اور طہارت کے پہاڑ ہیں۔
آپ کے سفر
امام اعظم نے علم حدیث کے حصول کے لیے تین مقامات کا بطورِ خاص سفر کیا۔ آپ نے علم حدیث سب سے پہلے کوفہ میں حاصل کیا کیونکہ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ علم حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا۔ گویا آپ علم حدیث کے گھر میں پیدا ہوئے، وہیں پڑھا، کوفہ کے سب سے بڑے علم کے وارث امام اعظم خود بنے۔ دوسرا مقام حرمین شریفین کا تھا۔ جہاں سے آپ نے احادیث اخذ کیں اور تیسرا مقام بصرہ تھا۔ امام ابو حنیفہ نے تقریبًا 4 ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا۔
اساتذہ
علم الادب، علم الانساب اور علم الکلام کی تحصیل کے بعد علم فقہ کے لیے امام حماد کے حلقہ درس سے فیض یاب ہوئے۔ آپ علم فقيه كےعالم هين .آپ کے شیوخ و اساتذہ کی تعداد چار ہزار بتائی جاتی ہے۔ جن سے وہ وقتاً فوقتاً اکتساب علم کرتے رہے۔ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق کی شاگردی کا فخر بھی انہیں حاصل هے.
درس و تدریس
آپ نے تحصیل علم کے بعد جب درس و تدریس کے سلسلہ کا آغاز کیا تو آپ کے حلقہ درس میں زبردست اژدھام ہوتا اور حاضرین میں اکثریت اد دور کے جید صاحبان علم کی ہوتی۔ علامہ کروری نے آپ کے خاص تلامذہ میں آٹھ سو فقہا محدثین اور صوفیا و مشائخ شمار کیا ہے۔ یہ ان ہزار ہا انسانوں کے علاوہ تھے۔ جو ان کے حلقہ درس میں شریک ہوتے رہتے تھے۔ آپ نے فقہ حنفیہ کی صورت میں اسلام کی قانونی و دستوری جامعیت کی لاجواب شہادت مہیا کی اور اس مدت میں جو مسائل مدون کیے ان کی تعداد بارہ لاکھ ستر ہزار سے زائد ہے۔ آپ کی تالیف پر اجماع ہے۔ اور صحابہ سے نقل روایت بھی ثابت ہے۔ آپ شریعت کے ستون تھے۔
مورخ خطیب بغدادی نے امام کے پوتے اسماعیل سے روایت کیا ہے کہ ’’میں اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت بن مرزبان ہوں ہم لوگ نسلاً فارس سے ہیں۔‘‘ امام صاحب کے دادا ثابت بچپن میں حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے انہوں نے ان کے خاندان کے حق میں دعائے خیر کی تھی۔ ’’ہمیں کو امید ہے۔ وہ دعا بے اثر نہیں رہی۔‘‘ تجارت ان کا ذریعہ معاش تھا۔ تجارت سے ہی رزق حلال کماتے دولت کی کمی نہ تھی۔ لیکن ان کی دولت و ثروت کا فائدہ طلبا اور حاجت مندوں ہی کو پہنچتا۔ فروخت کیے جانے والے کپڑے کے محاسن اور عیوب آپ برابر بیان کرتے اور خرابی کو کبھی نہ چھپاتے اپنے شاگردوں کی اکثر مالی امداد کرتے۔
تلامذہ
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے ایک ہزار کے قریب شاگرد تھے جن میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المرتبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں :
امام ابو یوسف رحمۃ اﷲ علیہ
امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اﷲ علیہ
امام حماد بن ابی حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ
امام زفر بن ہذیل رحمۃ اﷲ علیہ
امام عبد اﷲ بن مبارک رحمۃ اﷲ علیہ
امام وکیع بن جراح رحمۃ اﷲ علیہ
امام داؤد بن نصیررحمۃ اﷲ علیہ
اہم تصانیف
آپ کی چند مشہور کتب درج ذیل ہیں :
الفقه الأکبر
الفقه الأبسط
العالم والمتعلم
رسالة الإمام أبي حنيفة إلی عثمان البتی
وصية الامام أبي حنيفة
المقصود فی علم التصریف کتاب الوصیۃ لجمیع الامۃ الوصیۃ لعثمان السبتی کتاب الوصیۃ لابی یوسف الوصیۃ لاصحابہ الکبار الرسالہ الی نوح بن مریم
اور ان کی احادیث میں تصانیف کی تعداد 27کے قریب ہیں
امام اعظم اپنا طریق اجتہاد و استنباط یوں بیان کرتے ہیں:
’’میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب اﷲ سے اخذ کرتا ہوں، پھر اگر وہاں وہ مسئلہ نہ پاؤں تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے لیتا ہوں، جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کا قول نہیں لیتا اور جب معاملہ ابراہیم شعبی، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ بھی مجتہد تھے اور اس وقت میں بھی ان لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں۔‘‘
آپ کے اجتہادی مسائل تقریبًا بارہ سو سال سے تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے بڑی بڑی عظیم اسلامی سلطنتوں میں آپ ہی کے مسائل، قانون سلطنت تھے اور آج بھی اسلامی دنیا کا بیشتر حصہ آپ ہی کے فقہی مذہب کا پیرو کار ہے۔
فقہ حنفی کی اشاعت و خدمت سب سے زیادہ ان کے شاگردوں قاضی ابویوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی نے کی۔ قاضی ابو یوسف کو ہارون نے مملکت کا قاضی القضاۃ بنا دیا تھا۔ اس لیے ان کی وجہ سے فقہ حنفی کے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
فقہ حنفی کی تدوین و ترویج
امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں امام قاضی ابو یوسف اور امام محمد بن الحسن الشیبانی نے حنفی فقہ کی باضابطہ تدوین کی۔ قاضی ابو یوسف کو ہارون نے مملکت کا قاضی القضاۃ بنا دیا تھا۔ اس لیے ان کی وجہ سے فقہ حنفی کے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
آپ کے اجتہادی مسائل تقریبًا بارہ سو سال سے تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لئے بڑی بڑی عظیم اسلامی سلطنتوں میں آپ ہی کے مسائل، قانون سلطنت تھے اور آج بھی اسلامی دنیا کا بیشتر حصہ آپ ہی کے فقہی مذہب کا پیرو کار ہے۔
عباسی خلفا کے عہد میں سرکاری فقہ حنفی تھی۔ یہ فقہ مشرقی ملکوں بالخصوص غیر عربوں میں زیادہ مقبول ہوئی۔ عثمانی ترک بھی حنفی تھے۔ بخارا، خراسان، اور بغداد ان کے خاص مرکز تھے۔
آج کے دور میں
اس وقت بھی پاکستان، بھارت، افغانستان، چینی ترکستان، وسطی ایشیا اور ترکی وغیرہ میں مسلمانوں کی غالب اکثریت حنفی فقہ پر کاربند ہے۔
امام مالک
مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ - 197ھ) مسلمانوں میں "امام مالک" اور "شیخ الاسلام" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اہل سنت کی نظر میں وہ فقہ کے مستند ترین علماء میں سے ایک ہیں۔ امام شافعی ، جو نو برس تک امام مالک کے شاگرد رہے اور خود بھی ایک بہت بڑے عالم تھے ، نے ایک بار کہا کہ "علماء میں مالک ایک دمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہیں"۔ فقہ مالکی اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
آپ کے زمانہ میں بغداد میں عباسی خلفاء حکمران تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہ کوفہ میں تھے قریب قریب اسی زمانہ میں امام مالک مدینہ منورہ میں تھے۔ مدینہ شریف میں رہنے کی وجہ سے اپنے زمانے میں حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے۔ انہوں نے حدیث کا ایک مجموعہ تالیف کیا جس کا نام (موطا) تھا۔ امام مالک عشق رسول اور حب اہل بیت میں اس حد تک سرشار تھے کہ ساری عمر مدینہ منورہ میں بطریق احتیاط و ادب ننگے پاؤں پھرتے گزار دی ۔
وہ بڑے دیانتدار اصول کے پکے اور مروت کرنے والے تھے۔ جو کوئی بھی انہیں تحفہ یا ہدیہ پیش کرتا وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیتے۔ حق کی حمایت میں قید و بند اور کوڑے کھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ مسئلہ خلق قرآن میں مامون الرشید اور اس کے جانشین نے آپ پر بے پناہ تشدد کیا لیکن آپ نے اپنی رائے تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ ہارون الرشید نے ان سے درخواست کی کہ ان کے دونوں بیٹوں امین و مامون کو محل میں آکر حدیث پڑھا دیں مگر آپ نے صاف انکار کر دیا۔ مجبوراَ ہارون کو اپنے بیٹوں کو ان کے ہاں پڑھنے کے لیے بھیجنا پڑا۔ فقہ مالکی کا زیادہ رواج مغربی افریقہ اور اندلس میں ہوا۔ امام مالک کو امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادق سے بھی علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
فقہ مالکی
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام مالک کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان مالکی کہلاتے ہیں۔
موطاء امام مالک
موطاء امام مالکحدیث کی ایک ابتدائی کتاب ہے جو مشہور سنی عالم دین مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ - 197ھ) نے تصنیف کی۔ انہی کی وجہ سے مسلمانوں کا طبقہ فقہ مالکی کہلاتا ہے جو اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
موطا کےمصنف کا پورانام یہ ہے: ابوعبداللہ مالک بن انس بن ابی عامرالاصبحی الحمیری ہے۔(۱) اپ کی تاریخ ولادت میں ۹۰ھ سے ۹۷ھ تک کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ذہبی نے یحیی بن کثیرکے قول کو اصح قراردیاہے جس کے مطابق اپ کی ولادت ۹۳ھ میں ہوءی ہے۔ جبکہ اپ کی وفات ربیع؁ الاول؁۱۷۹ھ کومدنیہ منورہ میں ہوءی امام مالک فقہ اورحدیث مین اھل حجاز بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے امام ہیں۔ اپ کی کتاب "الموطا" حدیث کے متداول اور معروف مجموعوں میں سب سے قدیم ترین مجموعہ ہے۔موطاسے پہلے بھی احادیث کے کی مجموعے تیار ہوءے اور ان میں سے کيی ایک اج موجود بھی ہیں لیکن وہ مقبول اورمتداول نہیں ہیں۔ موطاکے لفظی معنی ہے، وہ راستہ جس کو لوگوں نے پےدرپے چل کر اتناہموارکردیاہو کہ بعد میں انے والوں کے لیےاسپرچلنااسان ہوگیاہو۔ جمہور علماء نے موطاکو طبقات کتب حدیث میں طبقہ اولی میں شمار کیاہے امام شافعی فرماتے ہیں"ماعلی ظہرالارض کتاب بعد کتاب اللہ اصح من کتاب مالک" کہ میں نے روءے زمین پر موطاامام مالک سے زیادہ کوءی صحیح کتاب (کتاب اللہ کے بعد)نہیں دیکھی ۔ حضرت شاہ ولی اللہ موطاکے بارے میں لکھتے ہیں" فقہ میں موطا امام مالک سےزیادہ کوءی مضبوط کتاب موجود نہیں ہے" موطا میں احادیث کی تعداد کے بارے میں کءی روایات ہیں، اور اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام مالک نے اپنی روایات کی تہذیب اورتنقیح برابر جاری رکھی لہذا مختلف اوفات میں احادیث کی تعداد مختلف رہی۔
امام مالک
مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ - 197ھ) مسلمانوں میں "امام مالک" اور "شیخ الاسلام" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اہل سنت کی نظر میں وہ فقہ کے مستند ترین علماء میں سے ایک ہیں۔ امام شافعی ، جو نو برس تک امام مالک کے شاگرد رہے اور خود بھی ایک بہت بڑے عالم تھے ، نے ایک بار کہا کہ "علماء میں مالک ایک دمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہیں"۔ فقہ مالکی اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
آپ کے زمانہ میں بغداد میں عباسی خلفاء حکمران تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہ کوفہ میں تھے قریب قریب اسی زمانہ میں امام مالک مدینہ منورہ میں تھے۔ مدینہ شریف میں رہنے کی وجہ سے اپنے زمانے میں حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے۔ انہوں نے حدیث کا ایک مجموعہ تالیف کیا جس کا نام (موطا) تھا۔ امام مالک عشق رسول اور حب اہل بیت میں اس حد تک سرشار تھے کہ ساری عمر مدینہ منورہ میں بطریق احتیاط و ادب ننگے پاؤں پھرتے گزار دی ۔
وہ بڑے دیانتدار اصول کے پکے اور مروت کرنے والے تھے۔ جو کوئی بھی انہیں تحفہ یا ہدیہ پیش کرتا وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیتے۔ حق کی حمایت میں قید و بند اور کوڑے کھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ مسئلہ خلق قرآن میں مامون الرشید اور اس کے جانشین نے آپ پر بے پناہ تشدد کیا لیکن آپ نے اپنی رائے تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ ہارون الرشید نے ان سے درخواست کی کہ ان کے دونوں بیٹوں امین و مامون کو محل میں آکر حدیث پڑھا دیں مگر آپ نے صاف انکار کر دیا۔ مجبوراَ ہارون کو اپنے بیٹوں کو ان کے ہاں پڑھنے کے لیے بھیجنا پڑا۔ فقہ مالکی کا زیادہ رواج مغربی افریقہ اور اندلس میں ہوا۔ امام مالک کو امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادق سے بھی علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام مالک کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان مالکی کہلاتے ہیں۔
امام شافعی
محمد بن ادریس بن العباس بن عثمان بن شافع بن السائب بن عبید بن عبد زید ابن ھاشم بن المطلب بن عبد مناف القرشی۔ یہ سید المرسلین سیدنا محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ " عبد مناف " کے ذریعے ملتے ہیں. شافعی قریشی ہیں اور والدہ کی طرف سے (مشہور قول کی بنا پر کہ) آپ کی والدہ ایک شریف قبیلہ الأزد سے تھیں جن کا نام السيدة فاطمہ ( أم حبيبہ ) الأزديہ تھا، یہ قبیلہ یمن کہ السعید سے تعلق رکھتا تھا.
حالات زندگی
آپ ماہ رجب سال 150ھ بمطابق 768ء میں شہر غزہ ، فلسطین میں پیدا ہوئے۔ آپکے والد مکہ مکرمہ سے مسلمین کے ساتھ ہجرت کر کے فلسطین آگئے تھے ، اسکے بعد غزہ و عسقلان میں بھی رہے۔ امام شافعی کی ولادت کے بعد کچھ دنوں ہی میں انکے والد کا انتقال ہوگیا۔ انکی والدہ انکو واپس مکہ لے آئیں اور وہیں انکی علمی تربیت ہوئی۔ آپ امام مالک کے شاگرد بھی رہے ، اور آپ کی عمر کا بیشتر حصہ مکہ ، مدینہ ، بغداد اور مصر میں گزرا اور آخرکار مصر ہی میں وفات پائی۔ آپ اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ عربی زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ اور اعلٰی درجہ کے انشاپرداز تھے۔ آپ کی دو کتب (کتاب الام) اور (الرسالہ) کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔ صدیوں تک مصر عرب ، شام ، عراق ، اور ایران میں آپ کی قابلیت کا چرچہ رہا۔
تصانیف
الرسالہ القدیمہ
الرسالہ الجدیدۃ
اختلاف الحدیث
جماع العلم
ابطال الاستحسان
احکام القرآن
بیاض الغرض
صفہ الامر والنھی
اختلاف العراقیین
فضائل قریش
کتاب: الام
کتاب: السُنَن
کتاب: المبسوط
المسند الشافعی
امام احمد بن حنبل
780ء کو پیدا ہوئے اور 855ء کو وفات پائی۔ اپنے دور کے بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ آپ امام شافعی کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیث میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ انہوں نے (مسند) کے نام سے حدیث کی کتاب تالیف کی جس میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں۔ امام شافعی کی طرح امام احمد بن حنبل کی مالی حالت بھی کمزور تھی۔ لوگ انہیں بے شمار تحائف اور ہدیہ پیش کرتے لیکن آپ اپنے اوپر اس میں سے کچھ بھی نہ صرف کرتے سب کچھ بانٹ دیتے ۔
خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ ان کے انتقال کے وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ اشخاص بغداد میں جمع ہوئے اور نماز جنازہ پڑھی۔ عباسی خلافت کے آخری دور میں فقہ حنبلی کا بڑا زور تھا۔ پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی بھی حنبلی تھے۔ آج کل ان کے پیروکاروں کی تعداد گھٹ کر عرب کے علاقے نجد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ حنبلی علماء میں ابن تیمیہ کا شمار صف اول کے لوگوں میں کیا جاتا ہے۔
آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآن کے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔
حنبلی
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام احمد بن محمد بن حنبل کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان حنبلی کہلاتے ہیں۔
اسلوب فقہ
حنابلہ فقہی معاملات میں قیاس یا رائے کو نہیں مانتے اور اپنی فقہ کی بنیاد زیادہ تر قرآن اور حدیث پر رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک حدیث کی دیگر کتب میں مسند احمد بن حنبل کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
آج کے دور میں
دیگر اسلامی فقھوں کے تناسب سے اس وقت حنبلی فقہ کے مقلدین کی تعداد سب سے کم ہے۔ چودھویں صدی عیسوی تک ان کی تعداد کافی تھی اور شام و فلسطین کے علاقوں میں ان کا بہت زور تھا۔ امام ابن تیمیہ بھی فقہ حنبلی کے مقلد تھے۔ عثمانی ترکوں کی خلافت سے قبل ہر بڑے اسلامی شہر میں دیگر تینوں اسلامی فقھوں کے علاوہ حنبلی قاضی بھی مقرر کیے جاتے تھے مگر ترکوں نے یہ رسم ترک کر دی۔

Kia 786 Bismillah ka Qaaem Maqaam hai?

کیا{786}بسم الله الرحمن الرحيم کا قائم مقام ہے؟
الله کے نام سے شروع کرتا ہے جو بہت ہی مہربان اور نہایت رحم والا ہے
یہ بابرکت الفاظ ہر نیک کام شروع کرنے سے پہلے زبان سے ادا کرنا یا لکھنا بہت ہی اچھا اور ثواب کا کام ہے - قرآن حکیم کو بھی "بسم الله الرحمن الرحیم" سے ہی شروع فرمایا گیا ہے اور ہر سورۃ کے شروع میں "بسم الله الرحمن الرحیم" تحریر ہے ، سوائے سورۃ توبہ کے اور اس کی کمی بھی سورۃ النمل میں بطور آیت مبارکہ کے {انه من سلیمان وانه بسم الله الرحمن الرحیم} "سورۃ النمل آیت نمبر 30" نازل فرماکر پوری کی گئی ہے - الله تعالی کے پاک نام سے ہر نیک کام کا آغاز کرنا بذات خود ایک کار ثواب ہ اور قرآن عظیم کے الفاظ ہونے کی وجہ سے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے حروف اکیس 21 ہیں ہر حروف پر دس نیکیاں "بسم الله الرحمن الرحیم" پر 210‏نیکیاں عطا فرمانے کا ارشاد ربانی ہے ، لیکن اس ثواب سےمحروم کرنے کے لیے "بسم الله الرحمن الرحیم" کی جگہ 786کے ہندسہ کو مسلمانوں میں رائج کیا گیا - مختلف خود ساختہ تخیلات کا سہارا لے کر مسلمانوں کو "بسم الله الرحمن الرحیم" پڑھنے اور لکھنے کی برکت اور ثواب سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں مسلمان دشمن اور طاغوتی طاقتوں کو حیرت انگیز حد تک کامیابی ہوئی ہے - اب تقریبآ ہر تعلیم یافتہ ، کم تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ طبقہ زندگی اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا "بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے 786‏کا ہندسہ لکھتا ہے اور اپنی دانست میں وہ اسے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام سمجھ کے ثواب اور برکت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ کر بڑا مسرور ہے حالانکہ ثواب اور برکت کا حصول صرف اور صرف ان عربی الفاظ کو زبان سے ادا کرکے یا لکھ کر ہی ہوسکتا ہے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے ثواب اور برکت سے محروم کرانے والوں نے لوگوں کے اذہان میں یہ بات نقش کرنے کی سعئ نامشکور کی کہ اگر کسی خط ، چھٹی یا کسی تحریذ میں "بسم الله الرحمن الرحیم" کے الفاظ لکھے جائیں اور وہ ڈاک کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجی جائے اس صورت میں "بسم الله الرحمن الرحیم" کے پاک الفاظ کی بے ادبی ہوگی لہذا ان پاک الفاظ کی جگہ 786 لکھ دیا جائے اس طرح الفاظ کی بے ادبی بھی نہ ہوگی اور ثواب اور برکت بھی حاصل ہوجائے گی اور لوگوں نے بلاسوچے سمجھے اس پر عمل شروع کردیا اور ہر خط ، چھٹی یا تحریر پر "بسم الله الرحمن الرحیم" کی جگہ 786 لکھنا باعث ثواب سمجھا اور عربی الفاظ کو توہین اور بے ادبی سے بچاکر ثواب بھی کماکر دل ہی دل میں اپنے اس کارنامے پر خوش ہوتے رہے حالانکہ اصل برکت ثواب اور نیکی سے وہ بھی "بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے 786 لکھ کر محروم ہوگئے اگر بے ادبی اور توہین والے نام نہاد دلیل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے بلاسوچے سمجھے اسے قابل عمل مان لیا ہے جس خط یا چھٹی کے شروع میں الله تعالی کے پاک نام سے ابتداء اس وجہ سے نہیں کی گئی کہ اس خط یا چھٹی کو سپرد ڈاک کرنے کے بعد {لفظ} "الله" ، "رحمن" ، "رحیم" کے مقدس نام کی بے ادبی ہوگی اس خط اور چھٹی میں مکتوب الیہ کا نام جو رحمت اللہ ، صبغت اللہ و سیف اللہ ، محمد ، احمد ، رضوان اللہ وغیرہ تھا مکتوب الیہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ نام لکھا گیا اس کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ یا صرف السلام علیکم لکھا گیا - اس میں مکتوب الیہ کے لیے دعائیہ الفاظ بھی جابجا تحریر کیے گئے - مثلا الله تعالی آپ کو خیریت سے رکھے یا آپ کو رزق حلال عطا فرمائے وغیرہ - اس کے علاوہ تقریبآ ہر خط یا مضمون میں اور بہت سے الفاظ اور جملے الله تعالی اور رسول پاک صلی الله علیه وسلم کا نام نامی الفاظ یا دوسرے انبیاء کرام علیهم السلام کے اسمائے مبارک تحریر کرنا پڑتے ہیں لیکن "بسم الله الرحمن الرحیم" لکھتے وقت ہمارا ذہن فورآ بے ادبی کے خوف سے اس کی جگہ 786 کے لکھنے کا حکم دیتا ہے - اگر خط یا چھٹی میں الله تعالی ، رسول الله صلی الله علیه وسلم یا انبیاء کرام علیهم السلام وغیرہم کے ناموں کی توہین کا خدشہ ہے تو پھر لکھنے والا کچھ بھی تحریر نہیں کرسکتا کیونکہ ایک مسلمان کی زبان اور قلم سے الله تعالی اور رسول الله صلی الله علیه وسلم کے بابرکت نام ضرور ادا ہونگے - اور چونکہ اس کے بغیر چارہ کار نہیں الله تعالی دلوں کے بھید خوب جانتا ہے کہ لکھنے والے کی نیت بے ادبی یا توہین کی نہیں اس نے تو ثواب کی نیت سے لکھا ہے اور الله تعالی کے پاک نام سے ابتداء کی ہے لہذا الله تعالی ثواب عطا فرمائے گا
مگر 786 کے الفاظ رائج کرانے والوں نے یہ کام اتنے منظم طریقہ سے کیا کہ ہر شخص اصل قرآنی الفاظ ترک کرکے 786 کے ہندسہ کو خطوط وغیرہ کے علاوہ بلند عمارات ، بسوں ، ٹرکوں ، سوزوکیوں ، رکشاؤں حتی کہ مساجد پر بھی "بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے {جہاں بے ادبی کا ذرہ بھی احتمال نہیں} 786 کو لکھ یا لکھوادیا ہے اگر خط یا چھٹی میں قرآنی الفاظ کی بے ادبی کا خدشہ ہے تو بلند و بالا عمارات وغیرہ پر تو اس کا احتمال ہی نہیں لیکن "بسم الله الرحمن الرحیم" کے پاک اور بابرکت الفاظ کی جگہ جن لوگوں نے 786 کے ہندسہ کو رواج دیا ہے ان کی چالاکی اور منصوبہ بندی کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے 786 کو "بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام ذہن نشین بلکہ اذہان و قلوب پر نقش کردیا ہے - اب ہر شخص 786 کو "بسم الله الرحمن الرحیم" سمجھتا ہے اور اس طرح اسلام دشمنوں کی شاطرانہ روش نے مسلمانوں کو ثواب اور برکت سے محروم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے
اسلام ایک مکمل دین ہے الله تعالی نے قرآن مجید میں ہمیں زندگی گزارنے کے آداب بتائے ہیں اور جناب رسول الله صلی الله علیه وسلم نے اپنے مقدس فرامین کے ذریعے عملی نمونہ پیش کرکے ان کی مکمل وضاحت فرمادی نمبر {01} ان اسلامی آداب میں سے ایک ادب یے بھی ہے کہ مسلمان اپنے ہر کام میں الله تبارک تعالی کا نام لے - مسلمانوں کو ہر اہم کام "بسم الله الرحمن الرحیم" سے شروع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے تحریر میں بھی جناب رسول الله صلی الله علیه وسلم کی یہی سنت ہے کہ "بسم الله الرحمن الرحیم" سے شروع کیا جائے چناچہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے مختلف بادشاہوں اور سرداروں کو جو مکتوب مبارک تحریر فرمائے ، ان سب میں "بسم الله الرحمن الرحیم" لکھی گئی جیسا کہ احادیث مبارکہ میں وہ خطوط مکمل طور پر درج کیے گئے ہیں
نمبر {02} کچھ لوگوں نے "بسم الله الرحمن الرحیم" کے بجائے 786 کا ہندسہ اختیار کرلیا ہے اور عوام میں یہی عدد رائج ہوگیا ہے حالانکہ شریعت اسلامیہ میں اعداد کو کبھی الفاظ کا بدل تسلیم نہیں کیا گیا البتہ یہو د میں یہ چیز پائی جاتی تھی کہ وہ اعداد کو اہمیت دیتے اور حروف کو اعداد کے طور پر استعمال کرتے تھے - یہود و نصاری میں 7 اور 14 کے عدد کو بہت اہمیت حاصل ہے اس لیے ان کی مذہبی کتابوں میں ساتویں سال کو خاص اہمیت حاصل ہے اور ان کے لیے خاص احکام موجود ہیں اس بناء پر حضرت عیسی علیه السلام کے نسب نامہ کو حضرت ابراہیم علیه السلام سے لے کر حضرت مسیح علیه السلام تک چودہ چودہ ناموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے مسیحی علماء اس کی ایک وجہ بتاتے ہیں کہ چودہ کا عدد سات کا دگنا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ "داؤد" جسے عبرانی زبان میں --دود-- کی صورت میں لکھا جاتا ہے اس کے اعداد 14 ہیں د 4 | و 6 | د 4 = {14} --دود-- اس سے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیه السلام حضرت داؤد علیه السلام کے روحانی وارث ہیں ہندوؤں کے معبود "کرشن" کے نام کا نعرہ "ہرے کرشنا" کے اعداد کا مجموعہ بھی 786 ہے - اس سے کیا نماز کے اعداد نکال کر جھٹ پٹ نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ ہرگز نہیں
نمبر {03} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حساب جمل یعنی حروف و اعداد کے بانی غیر مسلم اہل کتاب ہیں - مسلمانوں کو اس سے کوئی تعلق نہیں - حروف "مقطعات" جو سورتوں کے شروع میں ہیں اور الگ الگ حرف کرکے پڑھے جاتے ہیں ان کے متعلق کتب تفسیر میں یہ روایات موجود ہیں کہ یہ حروف تو ان کا خیال ہے کہ اس سے مراد مدت ہے کہ اس نبی پاک کی نبوت اتنا عرصہ رہے گی چنانچہ ا 1 | ل 30 | م 40 = {71} "الم" - "الم" سن کر ایک یہودی عالم نے کہا کہ مسلمانوں کا نبی تو محض اکہتر 71 سال تک باقی رہے گا جب اسے بتایا گیا کہ قرآن میں "المص" بھی ہے اس نے کہا کہ 161 سال ہوگئے ا 1 | ل 30 | م 40 | ص 90 = {161} "المص" پھر اسے بتایا گیا کہ قرآن مجید میں "الر" بھی ہے تو اس نے کہا یہ تو اور زیادہ ہوگئے ا 1 | ل 30 | ر 200 = {231} "الر" پھر جب اس کے سامنے "المر" پیش کیا گیا تو اور زیادہ پریشان ہوگیا کیونکہ یہ 271 بنتے ہیں آخر کہنے لگا کہ مسئلہ الجھ گیا ہے ہمیں معلوم نہیں ان کا مقصد کیا ہے ، ان کا کیا مقصد ہے؟ {جب کہ ان حروف کی حقیقت کو الله تعالی ہی بہتر جانتا ہے اور یہی مؤقف درست اور حقیقت پر مبنی ہے}
نمبر {04} اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف اور اعداد کو ایک دوسرے کا بدل قرار دینے کا تصور یہودیوں کے طرف سے آیا ہے لہذا مسلمانوں کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے - علاوہ ازیں مسلمانوں کی روزمرہ زندگی میں بھی اعداد کو الفاظ کا بدل سمجھنے کا تصور موجود نہیں تھا - اگر کسی کا نام انور ہے تو اس کو 275 صاحب کہہ کر نہیں بلایا جاتا - نہ قریشی صاحب 260 کہلانا پسند کریں گے اگر مولانا صاحب کے بجائے 128 صاحب کہا جائے تو مولانا یقینآ ناراض ہوجائینگے - پھر کیا وجہ ہے کہ الله تعالی کے مقدس نام کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے؟
نمبر {05} اس کے علاوہ ایک عدد ضروری نہیں کہ ایک ہی عبارت کو ظاہر کرے بلکہ ایک سے زیادہ عبارتوں کے مجموعی عدد کے بھی مساوی ہوسکتا ہے مثلآ یہی عدد 786 جسے "بسم الله الرحمن الرحیم" کا بدل قرار دیا جاتا ہے - ہندوؤں کے معبود کرشن کا نعرہ {ہرے کرشنا} کے اعداد کا مجموعہ بھی ہے
ھ 5 | ر 200 | ی 10 | ک 20 | ر 200 | ش 300 | ن 50 | ا 1 = {786} "ھری کرشنا"
نمبر {06} یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر اعداد الفاظ کا بدل ہیں تو کیا ہم اپنے معاملات میں ان کا اس لحاظ سے استعمال قبول کرسکتے ہیں ایک شخص آپ سے کوئی واقعہ بیان کرتا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے آپ اسے کہتے ہیں الله کی قسم کھاؤ وہ کہتا ہے چھیاسٹھ کی دو سو میں سچ کہہ رہا ہوں کیا آپ تسلی م کرلیں گے کہ اس نے الله کی قسم کھائی ہے؟ لہذا اس کی باپ پر اعتبار کرلیا جائے اس طرح نکاح کے موقع پر دولہا کہے میں نے 138 کیا تو یہ تسلیم کیا جائے گا کہ اس نے قبول کرلیا؟ لہذا نکاح منعقد ہوگیا یا کوئی اپنی بیوی سے کہے جا تجھے 140 ہے تو کیا اسے طلاق سمجھا جاسکتا ہے؟ یقینآ کوئی سمجھدار آدمی اس منطق کو قبول نہیں کرسکتا
نمبر {07} پھر کیا وجہ ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتے اسے الله تعالی کے مقدس نام کے لیے اور جناب رسول الله صلی الله علیه وسلم کے اسم مبارک کے لیے پسند کریں - ایک مؤمن کے لیے اس کا تصور بھی ناقابل قبول ہے - جہاں تک "بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام ہندسہ 786 کی تعداد کا تعلق ہے حروف ابجد کی رو سے یہ بھی صحیح نہیں اس لیے کہ"بسم الله الرحمن الرحیم" کے ہندسے حروف ابجد کی رو سے 788 عدد ہوتے ہیں 786 ہوں یا 788 ثواب سے تو بہرحال محرومی ہے اگر کوئی شخص ایک سے لے کر ایک کروڑ تک بھی ہندسے لکھ دے یا پڑھ دے تو قرآنی الفاظ کے مقابلہ میں ہندسے لکھنے والے یا پڑھنے والے کو ایک ذرہ بھی نیکی نہیں مل سکتی - کیونکہ ثواب کا وعدہ تو عربی الفاظ ادا کرنے پر ہے اپ آپ کی خدمت میں "بسم الله الرحمن الرحیم" کی حروف ابجد کے حساب سے تجزیہ پیش کیا جاتا ہے
‏"بسم الله الرحمن الرحیم" کے ہندسے حروف ابجد کے حساب سے 788 ہوتے ہیں اور 786 کے حساب سے "یا علی مولا علی امیر المؤمنین" کے الف ظ بنتے ہیں بسم الله الرحمن الرحیم کا حروف ابجد کی رو سے تجزیہ
ب 2 | س 60 | م 40 | الف 1 | ل 30 | ل 30 | الف 1 | ھ 5 | الف 1 | ل 20 | ر 200 | ح 8 | م 40 | الف 1 | ن 50 | الف 1 | ل 30 | ر 200 | ح 8 | ی 10 | م 40 = {788} "بسم الله الرحمن الرحیم"
اب 786 کے ہندسون کے الفاظ ملاحظہ فرمایئے
ی 10 | الف 1 | ع 70 | ل 30 | ی 10 | م 40 | و 6 | ل 30 | الف 1 | ع 70 | ل 30 | ی 10 | الف 1 | م 40 | ی 10 | ر 200 | الف 1 | ل 30 | م 40 | و 6 | م 40 | ن 50 | ی 10 | ن 50 = {786} "یا علی مولا علی امیر المؤمنین"
علی 110 | امیر المؤمنین 478 | وصی محمد 198 = 786 {امیر المؤمنین علی حضرت رسول الله صلی الله علیه وسلم کا وصی یعنی خلیفہ بلافصل}
نوٹ = بالاتفاق خلیفہ بلافضل حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنه ہے اور حضرت علی رضی الله چوتھے خلیفہ ہے
ان الفاظ کے ہندسے بھی 786 ہوتے ہیں یعنی لکھنے والا اپنی دانست میں 786 لکھ کر "بسم الله الرحمن الرحیم" کے قائم مقام سمجھ رہا ہے حالانکہ وہ {یا علی مولا علی امیر المؤمنین} لکھ رہا ہے اگر کسی عمارت ، خط یا مضمون مسجد ٹرک یا بس پر 786 کا عدد لکھا ہوگا تو اس کا مطلب ہے کہ لکھنے والے نے {یا علی مولا علی امیر المؤمنین} لکھا ہے اگرچہ یہ لکھنا یا لکھوانا مسلمانوں کے نزدیک قطعآ ناپسند اور ناجائز ہو لیکن 786 کے کوڈ ہندسہ میں لاکھوں کروڑوں مسلمان {یا علی مولا علی امیر المؤمنین} اور {علی امیر المؤمنین وصی محمد} کے الفاظ اپنی خطوط اپنی تحریروں اپنی مسجدوں اپنے مضامین اور اپنی عمارات وغیرہ پر لکھ رہے ہیں اور دل ہی دل میں بڑے مسرور ہیں کہ ہم نے "بسم الله الرحمن الرحیم" کی برکت حاصل کرلی ہے
بسم الله الرحمن الرحیم کے لکھنے پڑھنے کا ثواب سے محرومی اور اس پر سمجھنا کہ ہمیں ثواب مل گیا ہے اور ہم نے صحیح راستہ اختیار کیا ہے کتنی بڑی گمراہی ہے جس میں چھوٹے بڑے عالم غیر عالم ، تعلیم یافتہ غیر تعلیم یافتہ سب مبتلا ہیں - اور ہمیں اس محرومی کا احساس بھی نہیں - "سورۃ الکہف آیت 106 میں ہے کہ ! یہی وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کی کرائی محنت گئی گزری ہوئی اور وہ {بوجہ جہل} اس خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں.
صحیح العقیدہ علمائے کرام ، پروفیسرز ، ڈاکٹرز ، انجینئرز ، ادیب ، شاعر ، دانشور صحافی صاحبان اور عوام الناس سے میری گزارش ہے کہ ہندسوں کا لکھنا قطعآ ترک کردیں اگر کسی جگہ "بسم الله الرحمن الرحیم" لکھنے سے اس کی بے ادبی کا احتمال ہو وہاں کچھ نہ لکھا جائے زبان سے ہی پڑھ لے تاکہ اگر "بسم الله الرحمن الرحیم" لکھنے کا ثواب نہ ملا تو پڑھنے کا مل جائیگا اور 786 لکھنے کے گناہ عظیم سے اپنے آپ کو کم از کم بچایا جاسکے گا - الله تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور جو غلط باتیں ہمارے گرد و پیش اور ہماری اپنی ذات کے اندر رواج پاگئی ہیں ان سے ہمیں بچنے کی توفیق نصیب فرمائے - اور حق بات کو کہنے ، سننے کا جذبہ ہمارے اندر پیدا کرے جب کسی بات کا حق ، سچ ہونا ثابت ہوجائے پھر اس کے خلاف کوئی بادشاہی کتنے ہی عرصے سے کسی معاشرے یا کسی طبقہ میں رائج یا راسخ ہوچکی ہو اسے ترک کردینا ہے صراط مستقیم ہے
اقتباس : جامعہ عثمانیہ پشاور کا ترجمان
ماہنامہ "العصر" پشاور ص 37 تا 43 مئی 2011 - جمادی الثانی ۱۴۳۲ہجری
از : مولانا امجد سعید قریشی خطیب جامع مسجد عثمان غنی ڈب نمبر 1 مانسہرہ

Jannat ul Baqeeu main Madfoon Ulama e Deoband

جنت البقیع میں مدفون علمائے دیوبند
نحمدہ ونصلی علی رسول الکریم امابعد!
مدینہ منورہ کو بہت مقام حاصل ہے یہی وہ شہر ہے جہاں پر وجہہ کائنات سرور کائنات آقائے نامدار رحمتہ للعالمین جناب نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔ يہ شہر کوئی عام شہر نہیں ہے یہی وہ ”بلد حبیب“ ہے کہ جس کا اونچا نصیب ہے، یہاں دن رات فرشتوں کی جماعتیں اترتی ہیں اور اﷲ کے محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم پر درودسلام کے تحائف نچاور کرتی ہیں۔يہ شہر عاشقوں کی مرکز نگاہ ہے، یہاں جانے،جینے کا، مرنے کا، رونے کا، ہنسے کا اپنا مزہ ہے ........ تبھی تو حضرت امام مالک بن انس رحمہ اﷲ کو یہاں دفن ہونے اتنی شدید خواہش تھی کہ اس شہر سے کسی صورت نکلنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔
مدینہ منورہ میں ایمان کے ساتھ مرنے کے بعد جنت البقیع میں دفن ہونا بہت بڑی نعمت ہیں،جہاں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت مدفون ہیں،یعنی حضرت عباس رضی اﷲ عنہ، حضرت حسن رضی اﷲعنہ، حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی صاحبزدایاں حضرت زنیب، حضرت ام کلثوم، حضرت رقیہ اور حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہن اور حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی تین پھوپھیاں اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم آرام فرما ہیں، اور تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفا ن رضی اﷲ عنہ، دس ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم، بے شمار تابعین، تبع تابعین اور لاتعداد علما، صلحا، شہدا اور اولیاءکرام رحمہم اﷲ مدفون ہیں۔
الغرض جنت البقیع میں فون ہونا بہت بڑی سعادت میں علماء دیوبند کو بھی اﷲ تعالیٰ نے پورا پوار حصہ دیا ہے اور ان کے مخالفین اس سعادت سے محروم رکھاہے۔ دار العلوم دیوبند کے پہلے مہتمم شاہ رفیع الدین ؒ جنت البقیع میں حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے سرہانے دفن ہوگئے جو دیوبندی عاشقان رسول صلی اﷲعلیہ وسلم کے سرخیل تھے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمہ اﷲ بھی جنت البقیع میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے قدموں میں مدفون ہیں۔استاذ المحدثین حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی ازواج مطہرات کے قدموں کی طرف مدفون ہیں گویا بیٹا اپنی ماؤں کے قدموں میں لیٹا ہوا ہے۔ حضرت مولانا مظفر حسین کاندھلوی ؒ حضری عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے قریب مدفون ہیں۔
مدینہ منورہ اور جنت البقیع کے فضائل
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”مجھے ايک ایسی بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا ہے جوتمام بستوں پر غالب رہی ہے اور اس بستی کو لوگ یثرب کہتے تھے اب وہ مدینہ ہے جو برے آدمیوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ (بخاری ومسلم)
حضرت ابن عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مدینہ میں مر سکتاہوا اسے مدینہ میں مرنا چاہےے کیونکہ جو شخص مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔ احمد وترمذی
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی۔ میں اس سے نکلوں گا۔ پھر ابوبکر رضی اﷲ عنہ اپنی قبر سے نکلیں گے پھر عمررضی اﷲ عنہ، پھر جنت البقیع میں جاؤں گا ،وہاں جتنے مدفون ہیں ان کو اپنے ساتھ لوں گا،پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان آکر مجھ سے ملیں گے۔ ترمذی
اب علمائے دیوبند کے ان حضرات کے نام ذکر کيے جاتے ہیں جو نبی کے قبرستان میں تا قیام کےلئے دفن ہوگئے اور حدیث شریف کی رو سے آقائے نامدار کی شفاعت کے مستحق بن گئے۔
مدفونین جنت البقیع
1۔حضرت شاہ عبد الغنی محد ث دہلوی رحمہ اﷲ علیہ
2۔حضرت مولانا مظفر حسین صاحب رحمہ اﷲ علیہ
3۔شیخ محمد مظہر دہلوی رحمہ اﷲ علیہ
4۔حضرت مولانا شاہ رفیع الدین رحمہ اﷲ علیہ
5۔مولانا محمد اعظم حسین صدیقی خیر آبادی رحمہ اﷲ علیہ
6۔مولانا خلیل احمد سہارن پوری رحمہ اﷲ علیہ
7۔مولانا محمد صدیق صاحب مہاجر مدنی رحمہ اﷲ علیہ
8۔مولانا سید احمد مہاجر مدنی رحمہ اﷲ علیہ
9۔مولانا جمیل احمد مدنی رحمہ اﷲ علیہ
10۔حضرت مولانا شیر محمد مہاجرمدنی رحمہ اﷲ علیہ
11۔حضرت مولانا عبدالشکور دیوبندی رحمہ اﷲ علیہ
12۔حضرت مولانا شیخ عبدالحق نقشبندی مدنی رحمہ اﷲ علیہ
13۔حضرت مولانا محمد موسی مہاجر مدنی رحمہ اﷲ علیہ
14۔حضرت مولانا بدر عالم میر ٹھی مہاجر مدنی رحمہ اﷲ علیہ
15۔حضرت مولانا عبد الغفور عباسی،ہزاروی مہاجر مدنی رحمہ اﷲ علیہ
16۔حضرت مولانا قاری فتح محمدپانی پتی رحمہ اﷲ علیہ
17۔حضرت مولانا انعام کریم رحمہ اﷲ علیہ
18۔حضرت مولانا عبدالحنان صاحب رحمہ اﷲ علیہ
19۔حضرت مولانا زکریا صاحب مدنی رحمہ اﷲ علیہ
20۔حضرت مولاناقاری سید حسن شاہ بخاری ہزاروی رحمہ اﷲ علیہ
21۔حضرت مولاناسید عبد العزیز رحمہ اﷲ علیہ
22۔حضرت مولانا حافظ غلام محمد رحمہ اﷲ علیہ (المعروف بڑے حافظ جی)
23۔حضرت مولانا سعید احمد خاں صاحب رحمہ اﷲ علیہ
24۔حضرت الحاج ڈاکٹر شاہ حفیظ اﷲ سکھروی رحمہ اﷲ علیہ
25۔حضرت صوفی محمد اقبال صاحب مہاجرمدنی رحمہ اﷲ علیہ
26۔حضرت مولانا عاشق الٰہی بلندی شہری رحمہ اﷲ علیہ
27۔حضرت سید حبیب محمودمدنی رحمہ اﷲ علیہ
28۔حضرت مولانا منظور احمد الحسینی رحمہ اﷲ علیہ
29۔حضرت موانا معین الدین ہزاروی رحمہ اﷲ علیہ
30۔حضرت مولانا رشید الدین حمیدی رحمہ اﷲ علیہ
31۔حضرت مولانا محمو د احمدمدنی رحمہ اﷲ علیہ
32۔عبدالقدوس صاحب دیوبندی رحمہ اﷲ علیہ
33۔حضرت مولانا عبد الحق عباسی رحمہ اﷲ علیہ
34۔حضرت مولانا محمد عبدالرحمان عباسی رحمہ اﷲ علیہ
35۔حکیم بنیادعلی مرحوم رحمہ اﷲ علیہ والد ماجد مولانا مرتضی حسن چاندپوری
36۔حضرت مولانا عبدالحق بنوری رحمہ اﷲ علیہ
37۔حضرت مولانا حامد مرزا فرغانی رحمہ اﷲ علیہ فاضل دار العلوم دیوبند
38۔حضرت مولانا عبدالکریم رحمہ اﷲ علیہ ابن بنت شاہ عبدالغنی
39۔حضرت امتہ اﷲ صاحب رحمہ اﷲ علیہ بنت شاہ عبدالغنی محدث دہلوی
40۔حضرت مولانا ہاشم بخاری صاحب رحمہ اﷲ علیہ فاضل دار العلوم دیوبند
41۔حضرت مولانا عبدا لقدوس بنگالی رحمہ اﷲ علیہ مجاز صحبت حضرت تھانویؒ
42۔حضرت مولانا محمد اسماعیل برماو سی رحمہ اﷲ علیہ
43۔حضر ت مولانامحمد صدیق پٹھان رحمہ اﷲ علیہ مدرس مسجد نبوی شریف
44۔حضرت مولانا حافظ غلام محمد صاحب رحمہ اﷲ علیہ فاضل دارالعلوم ڈابھیل
45۔حضرت مولانا صوفی محمد اسلم صاحب رحمہ اﷲ علیہ
46۔حضرت مولانا قاضی نور محمد ارکانی رحمہ اﷲ علیہ
47۔حضرت مولانا احمدصاحب رحمہ اﷲ علیہ دار العلوم ڈابھیل
48۔حضرت مولانا لعل محمد صاحب رحمہ اﷲ علیہ فاضل دار العلو دیوبند
49۔حضرت مولانا عبد الحمید صاحب مظاہری رحمہ اﷲ علیہ
50۔حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمہ اﷲ علیہ مدیر مدرسہ تحفیظ القرآن مدینہ منورہ
51۔حضرت مولانا شیخ محمدد احمد صاحب رحمہ اﷲ علیہ بمبئی والے، متوسل حضرت قاری طیب قاسمی ؒ
52۔شیخ کامل سندھی رحمہ اﷲ علیہ متوسل مولانا احمد علی لاہوریؒ
53۔قاری عبد الرشید لدھیانوی رحمہ اﷲ علیہ نبیر ہ مولف نورانی قاعدہ
54۔قاری عبد الروف صاحب رحمہ اﷲ علیہ مدرس حرم مدنی
55۔قاری عبد الرحمن تونسوی رحمہ اﷲ علیہ مدرس تحفيظ القران حرم مدنی
56۔حافظ غلام رسول صاحب رحمہ اﷲ علیہ مدرس تحفیظ القران حرم مدنی
57۔حضرت قاری عبد الغفور صاحب رحمہ اﷲ علیہ تحفیظ القران حرم مدنی
58۔مولانا عبد المالک رحمہ اﷲ علیہ مرادآبادی مشرف مدرس تحفيظ القران مدینہ منورہ
59۔شیخ محمد خیاط رحمہ اﷲ علیہ تبلیغ مسجد نبوی شریف
60۔مولاناعبد العزیز مشرقی رحمہ اﷲ علیہ بن حکیم فضل محمد صاحب تلمیذ حضرت گنگوہی وخلیفہ حضرت حاجی امداد اﷲ مہاجر مکیؒ
61۔مولانا حاجی غلام حسین رحمہ اﷲ علیہ فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور
خاکپائے علمائے دیوبند
محمد راشد حنفی